تسنیم انصاری کے اشعار
عجیب شخص تھا اپنا پتہ بتایا نہیں
دیا جلایا مگر روشنی میں آیا نہیں
آج تک ایک بھی گردن نہیں ماری تو نے
یہ قبیلہ تجھے سردار بنانے سے رہا
یہ عنایت یہ شرف بات ذرا سی تو نہیں
یہ کرم آپ کا سرکار سیاسی تو نہیں
ہمارے گاؤں تمہاری شکارگاہ نہیں
دھویں کے ابر سے پانی پہ وار مت کرنا