Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عثمان مینائی کے اشعار

33
Favorite

باعتبار

ہو میرؔ کا زمانہ کہ موجودہ وقت ہو

دلی سے لکھنؤ کی ہمیشہ ٹھنی رہی

غموں پر اس کے کبھی اعتبار مت کرنا

وہ پیاز کاٹ کے آنسو نکال لیتا ہے

دیدار کے سکے جو ذرا بھیکھ میں مانگے

تو اس نے کہا جاؤ جمعرات کو آنا

نیزے کی نوک تیرا تہ دل سے شکریہ

اب تک گرا نہیں ہے مرا سر زمین پر

غزلوں کے شعر لکھنے سے پہلے ہزار بار

ہم دیکھتے ہیں آپ کی تصویر کی طرف

دیا بجھانے کی فطرت بدل بھی سکتی ہے

کوئی چراغ ہوا پر دباؤ تو ڈالے

استاد محترم نے کی اصلاح شعر کی

لیکن ہلاک شعر کا مفہوم کر دیا

نشاں کیوں ڈھونڈھتے ہو انگلیوں کے

قضا آئی تھی دستانے پہن کر

کفایت سے تمہیں ہم سوچتے ہیں

رقم یادوں کی اب تک چل رہی ہے

کوئی بشر کبھی پانی بنا نہیں سکتا

خدا کے ہونے کا پہلا ثبوت پانی ہے

پیڑ پر کیا سلاخ نکلے گی

کل زمینوں میں کیل بوئی تھی

تمہارے چہرے کی ساری نسیں تنی ہوئی ہیں

تمہارے ہاتھ میں کیا آئنہ دیا گیا ہے

قبضہ کسی کا پانی پہ جاری نہ رہ سکا

لیکن ہمارا پیاس پہ قبضہ ابھی بھی ہے

آؤ پانی کا فاتحہ پڑھ لیں

اس کی آنکھوں کا مر گیا پانی

Recitation

بولیے