1.47K
Favorite

باعتبار

اک روز کھیل کھیل میں ہم اس کے ہو گئے

اور پھر تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے

ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے

کتنے پیارے ہیں مجھے چھوڑ کے جانے والے

اس ہجر پہ تہمت کہ جسے وصل کی ضد ہو

اس درد پہ لعنت کی جو اشعار میں آ جائے

اتنا حیران نہ ہو میری انا پر پیارے

عشق میں بھی کئی خوددار نکل آتے ہیں

کچھ اس لیے بھی تری آرزو نہیں ہے مجھے

میں چاہتا ہوں مرا عشق جاودانی ہو

اس سے پہلے کہ یہ آزار گوارہ کر لیں

آ مری جان محبت سے کنارہ کر لیں

ہمیں نے حشر اٹھا رکھا ہے بچھڑنے پر

وہ جان جاں تو پریشان بھی زیادہ نہیں

مجھ سے کب اس کو محبت تھی مگر میرے بعد

اس نے جس شخص کو چاہا وہ مرے جیسا تھا

اک دن تری گلی میں مجھے لے گئی ہوا

اور پھر تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

اک لمحۂ فراق پہ وارا گیا مجھے

کیسی حسین شام میں مارا گیا مجھے

میں تو شب فراق تھا تم ایک عمر تھی

پھر بھی زیادہ تم سے گزارہ گیا مجھے

دلوں پہ درد کا امکان بھی زیادہ نہیں

وہ صبر ہے ابھی نقصان بھی زیادہ نہیں

اب کے مصروفیت عشق بہت ہے ہم کو

تم چلے جاؤ تو فرصت سے گزارہ کر لیں

دل بھی عجیب خانۂ وحدت پسند تھا

اس گھر میں یا تو تو رہا یا بے دلی رہی

بچا کے آنکھ بچھڑ جائیں اس سے چپکے سے

ابھی تو اپنی طرف دھیان بھی زیادہ نہیں

بدن میں آگ ہے روغن مرے خیال میں ہے

جدا ہی رہ ابھی خطرہ بہت وصال میں ہے

سفیر عشق ہمیں اب تو ہم سفر کر لو

ہمارے پاس تو سامان بھی زیادہ نہیں

وہ ایک ہاتھ بڑھائے گا تجھ کو پا لے گا

سو دیکھ صبر کا اعلان بھی زیادہ نہیں

تمام عشق کی مہلت ہے اس آنکھوں میں

اور ایک لمحۂ امکان بھی زیادہ نہیں

اسے تو دولت دنیا بھی کم بھی پانے کو

مری تو ذات کا میزان بھی زیادہ نہیں