Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Waqar Ambalvi's Photo'

وقار انبالوی

1896 - 1988 | شیخو پورہ, پاکستان

وقار انبالوی کا تعارف

تخلص : 'وقار'

اصلی نام : ناظم علی

پیدائش : 22 Jun 1896 | انبالہ, ہریانہ

وفات : 26 Jun 1988 | شیخو پورہ, پنجاب

وقار انبالوی اردو ادب کی ایک معتبر اور ہمہ جہت شخصیت تھی۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور صحافی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ اُن کا اصل نام ناظم علی تھا۔ وہ 22 جون 1896ء کو ضلع انبالہ کے گاؤں ملانہ میں پیدا ہوئے، مگر اُن کی ادبی شناخت شرقپور کے نواحی گاؤں سہجوال سے وابستہ رہی۔ عملی زندگی میں اُنہوں نے ابتدا فوجی خدمات سے کی، بعد ازاں صحافت کو مستقل پیشہ اختیار کیا اور لاہور کے اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔
صحافت کے میدان میں اُنہوں نے مدیر، کالم نگار اور قطعہ نگار کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ روزنامہ نوائے وقت میں اُن کا طویل عرصے تک جاری رہنے والا سلسلہ،،سر راہے،، خاص طور پر مقبول ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور کے ادبی حلقوں، بالخصوص کافی ہاؤس اور پاک ٹی ہاؤس، سے سرگرم طور پر وابستہ رہے۔
وقار انبالوی کی شاعری اور افسانہ نگاری میں قومی شعور اور سماجی احساس نمایاں ہے۔ اُن کی اہم تصانیف میں آہنگِ رزم،زبانِ حال، اور دیہاتی افسانے، شامل ہیں۔ اردو کا مشہور شعر
اسلام کے دامن میں اور اس کے سوِا کیا ہے؟
اک ضربِ یدَّاللہی، اک سجدۂ شبیریؑ 

 دراصل انہی کا تخلیق کردہ ہے، اگرچہ اسے عموماً علامہ اقبال سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔
وقار انبالوی کا انتقال 26 جون 1988ء کو ہوا اور وہ اپنے آبائی علاقے سہجوال، شرقپور میں سپردِ خاک ہوئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے