وسیم نادر کے اشعار
میں خوشبوؤں کے ذکر پہ خاموش ہی رہا
حالانکہ ایک پھول مرے حافظے میں تھا
ہم چاہتے تھے موت ہی ہم کو جدا کرے
افسوس اپنا ساتھ وہاں تک نہیں ہوا
تمہارے بعد اب جس کا بھی جی چاہے مجھے رکھ لے
جنازہ اپنی مرضی سے کہاں کندھا بدلتا ہے
بہت تیزاب پھیلا ہے گلی کوچوں میں نفرت کا
محبت پھر بھی اپنے کام سے باہر نکلتی ہے
اس نے تعریف کے پتھر سے کیا ہے زخمی
یہ نشانہ بڑی مشکل سے خطا ہوتا ہے
نادرؔ تم اپنی پیاس کہاں لے کے آ گئے
قطرے ادھار مانگ کے دریا بنے ہیں لوگ
سب لوگ جو حیرت سے تجھے دیکھ رہے ہیں
سر تیرا بہت چھوٹا ہے دستار بڑی ہے
یہ سوچ لو خوشبو کو ترس جاؤ گے ایک دن
پھولوں کو سیاست کا ہنر دے تو رہے ہو
احسان کر رہا ہے ترا ہجر ان دنوں
میں ان دنوں خدا کے زیادہ قریب ہوں
ترے بغیر بھی کہتی ہے مجھ سے جینے کو
یہ زندگی بھی سہی مشورہ نہیں دیتی
بچھڑ کر آپ سے یہ تجربہ ہو ہی گیا آخر
میں اکثر سوچتا تھا لوگ کیسے ٹوٹ جاتے ہیں
تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ میں آئے گا
چراغ بجھتے ہیں تب جا کے رات کھلتی ہے
ہمی اکیلے نہیں زندگی سے ہارے ہوئے
بہت سے لوگ کھڑے ہیں بدن اتارے ہوئے
محبتوں کے حسیں خواب لے کے آنکھوں میں
بشیر بدرؔ کو پڑھتا ہوا وہ ایک لڑکا
تم ہم کو جواں دیکھ کے حیران ہوئی ہو
پہچان تو لیتی کہ وہ بیٹا ہے ہمارا
سب اپنے نام کی تختی لگائے بیٹھے ہیں
پتہ سبھی کو ہے یہ سلطنت خدا کی ہے
اب اس سے بڑھ کے محبت کسی کو کیا دے گی
کسی کی آنکھ کا آنسو کسی کی آنکھ میں ہے
یہ عشق لائے گا اس موڑ پر تجھے ایک دن
غزل نہیں تو مرا نام گنگنائے گا
محبت بوجھ بن کر ہی بھلے رہتی ہو کاندھوں پر
مگر یہ بوجھ ہٹتا ہے تو کندھے ٹوٹ جاتے ہیں
تھکن سے چور ہو کر گر گیا بستر پہ میں اپنے
مگر اب تک تری تصویر سے بازو نہیں نکلے
میں خوشبوؤں کے ذکر پہ خاموش ہی رہا
حالانکہ ایک پھول مرے حافظے میں تھا
سمندروں کو بہت حسرتوں سے تکتے ہو
تم اپنی آنکھیں بھی صحرا بنا کے چھوڑو گے
محبتوں کو کہیں سے مدد نہیں ملتی
یہ جنگ ایسی ہے جس میں رسد نہیں ملتی
مجھے رہنا تھا تری آنکھ میں آنسو کی طرح
میں تو ناکام ہوں اے دوست ستارہ بن کر
تمہیں بھی بھیڑ میں کھونا پڑے گا
تمہارے پاس بھی چہرہ نہیں ہے
وہ چل رہا تھا غیر کے شانے پہ سر رکھے
میں بھی کسی کے ساتھ اسی قافلے میں تھا
نسلیں وحشی ہو جاتی ہیں یار حفاظت کرنے میں
خوش ہونے کی بات نہیں ہے صحرا کی سلطانی پر
درد وہیں زنجیر وہیں دیوار وہیں
عشق سے آخر جھگڑا کیا ہے عالی جاہ
آنسو ہمارا اس کی ہتھیلی پہ آ گیا
شہزادہ آج اپنی حویلی پہ آ گیا
بس اک جنون سمندر میں غرق ہونے کا
نہیں تو اور ندی کے اپھان میں کیا ہے
محفل شعر و سخن یوں ہی رہیں باغ و بہار
نسل در نسل چلے میر تقی میرؔ کا دکھ
ایسے موقعے تو اسیری میں کئی بار ملے
ہم اگر چاہتے زنجیر بدل سکتے تھے