Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یاور عظیم کا تعارف

اصلی نام : Farhan Ali

پیدائش : 11 Jan 1984 | رحیم یار خان, پنجاب

یاور عظیم کا شمار نئی نسل کے غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔ انھوں نے لکھنے کا آغاز بچوں کے ایک رسالے سہ ماہی ’’بچے من کے سچے‘‘(خانپور) سے کیا تھا جس کے بعد وہ کچھ برس تک اسسٹنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ تعلیم اپنے آبائی شہر خانپور سے حاصل کی۔ روزگار کے سلسلے میں وہ راولپنڈی، کراچی، واہ کینٹ، سہالہ، اسلام آباد اور صادق آباد وغیرہ میں مقیم رہے۔ اس دوران ان شہروں کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنائی۔ بیت بازی اور ابتدائی علمِ عروض کے نام سے ان کی مرتّبہ کتابیں رمیل ہاؤس آف پبلی کیشنز، راولپنڈی سے شائع ہوئیں۔ اسی ادارے کی فرمائش پر انھوں نے میر تقی میرؔ، غالبؔ، آتشؔ، ظفرؔ، داغؔ، حسرتؔ اور جگرؔ وغیرہ کی شاعری کے انتخاب کیے اور اُن کی فرہنگ کے ساتھ ان کو شائع کیا گیا۔ یاور عظیم نے  کچھ مدت کے لیے اسلام آباد سے نکلنے والے اخبار، ’’روزنامہ جناح‘‘ کے ادبی صفحے کی ادارت بھی کی۔ اپنے ادبی سفر کے دوران معروف رسائل و اخبارات میں ان کے کلام کی اشاعت ہوتی رہی ہے نیز اسلام آباد، راولپنڈی اور سرگودھا ریڈیو کے ادبی پروگراموں اور بعض نجی ٹی وی چینلز کے مشاعروں اور مسالموں میں انھیں شرکت کا موقع ملا ہے۔ یاور عظیم کے پسندیدہ شعرا میں میر تقی میرؔ، غالبؔ، انیسؔ، اقبالؔ اور حسرتؔ موہانی ہیں_ بعد کے شعرا میں وہ احمد فرازؔ، حفیظ شاہدؔ، ظفرؔ اقبال، عرفانؔ صدیقی، بشیر بدرؔ، راجیندر منچندا بانیؔ، زیبؔ غوری اور سلطان اخترؔ وغیرہ کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے