دل کی زخموں کو کیا کرتا ہے تازہ ہر دم

پھر ستم یہ ہے کہ رونے بھی نہیں دیتا ہے

خون جگر آنکھوں سے بہایا غم کا صحرا پار کیا

تیری تمنا کی کیا ہم نے جیون کو آزار کیا

بات جب ہے کہ ہر اک پھول کو یکساں سمجھو

سب کا آمیزہ وہی آب وہی گل بھی وہی