ظہور چوہان کے اشعار
پوری ہو جاتی اگر کوئی کہانی ہوتی
یہ محبت ہے میاں اس میں کسک رہتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آخری بار ملاقات تو کر لی ہے مگر
سلسلہ اپنی محبت کا کہاں آخری ہے
میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہوں
اسے کہو کہ مرے سامنے نہ آیا کرے
انہی جھکے ہوئے پیڑوں سے گفتگو ہے مری
جناب میرے بزرگوں سے گفتگو ہے مری
زندگی کتنے سلیقے سے گزارا ہے تجھے
مسکراتے بھی رہے زخم بھی کھاتے رہے ہم
ہمیں نہ دفن کرو کچی پکی قبروں میں
ہم اہل علم ہیں مر کر بھی جو نہیں مرتے
کبھی کبھی تو مرا گھر بھی مجھ سے پوچھتا ہے
کہ اس جہاں میں کوئی تیرا گھر بھی ہے کہ نہیں
کسی کے ساتھ ملا ہوں بڑی محبت سے
کبھی کبھار جو ملتے ہیں اچھے رہتے ہیں
میں روز دانہ نہیں ڈالتا پرندوں کو
کہ بھول جاؤں تو وہ چھت پہ بیٹھے رہتے ہیں
شہر کے چوراہے میں آنکھیں رکھ دی ہیں
بچ کر وہ اس بار کدھر سے نکلے گا
شعر کہہ کر کبھی دیکھو تو کھلے گا تم پر
اتنا آساں نہیں جتنا یہ ہنر لگتا ہے
چھاؤں دیتا دھوپ اٹھاتا رستے میں
میں نے دیکھا ایک شجر درویشی میں
شاعری اپنا لہو اس لئے دیتا ہوں تجھے
جانتا ہوں کہ تو زندہ مجھے کر سکتی ہے
اس کی پلکوں پہ جو چمکے تھے ظہورؔ
میرے ہاتھوں میں وہ تارے ٹوٹے
ہجر سے وصل کی اتنی تھی مسافت یارو
رنگ تبدیل ہوا بہتے ہوئے پانی کا
سخن کے آخری در پر صدا لگاتا ہوں
ظہورؔ اگلے زمانوں سے گفتگو ہے مری
نئے گھر میں ہر اک شے بھی نئی ہے
مگر خوشبو اسی کی آ رہی ہے