ظہور منہاس کے اشعار
وہ تھک گئی تھی بھیڑ میں چلتے ہوئے ظہورؔ
اس کے بدن پہ ان گنت آنکھوں کا بوجھ تھا
تمام شہر میں بارش کی دھاک بیٹھ گئی
جو اڑ رہی تھی ہواؤں میں خاک بیٹھ گئی
بھیجی تصویر بھی تو آنکھوں کی
یعنی آنکھیں دکھا رہی ہو مجھے
دعا ہے یہ رقیب بھی مری طرح ہی خوار ہو
میں چاہتا ہوں آپ کی رقیب سے بنی رہے
درد کا احساس رکھا ہے فقط انسان میں
حیف دیمک جی رہی ہے میرؔ کے دیوان میں
خدا کا شکر کہ چھوٹی سی ہے خدا کی زمیں
خدا کا شکر کہ تم بھی اسی زمین پہ ہو
گاڑی میں بھی گھر کو سوچے جاتا ہوں
گاڑی آگے اور میں پیچھے جاتا ہوں
کہیں کہیں سے جو کپڑوں میں بھی نہیں ڈھلتا
میں اس بدن کو بھی شعروں میں ڈھال لیتا ہوں
ظہورؔ کرنا ہے رن مبدل بہ کشت مجھ کو
میں اپنی تلوار کوٹ کر ہل بنا رہا ہوں
ریل کی پٹری پہ بھی لیٹے ہیں لوگ
یعنی پٹری سے اتر جاتے ہیں لوگ
جمالیات کی شہ سرخیاں بھی پڑھ لینا
کتاب سینۂ دوشیزگاں بھی پڑھ لینا
جینا ہے گر تو زخم لگا اپنے آپ کو
بچنے کو آندھیوں سے تو خیمے میں چھید کر
ہمہ بیاض تھے ہر سمت قرمزی عارض
میں کیسے ساعد سیمیں پہ دستخط کرتا