سیاست اور سیاسی رہنماؤں سے متعلق منٹو کے منتخب اقوال

منٹو نے اپنی تحریروں

میں سماج کے ہر اس رویے، ہر اس رخ اور ہر اس پہلو پر تنقید کی ہے جس کی موجودگی سماجی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ وہ چاہے مذہبی شدت پسندی ہو، بورژوا طبقے کے اطوار ہوں، نام نہاد تہذیب کا بوجھ ہو یا پھر سیاست اور سیاسی لیڈران ہوں۔ بےراہ رو سیاست اور سیاسی لیڈران پر منٹو کی یہ باتیں پڑھ کر آپ منٹو کی اس روش کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

2.8K
Favorite

باعتبار

پہلے مذہب سینوں میں ہوتا تھا آج کل ٹوپیوں میں ہوتا ہے۔ سیاست بھی اب ٹوپیوں میں چلی آئی ہے۔ زندہ باد ٹوپیاں!

سعادت حسن منٹو

ہندوستان کو ان لیڈروں سے بچاؤ جو ملک کی فضا بگاڑ رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

یہ لوگ جو اپنے گھروں کا نظام درست نہیں کر سکتے، یہ لوگ جن کا کیریکٹر بے حد پست ہوتا ہے، سیاست کے میدان میں اپنے وطن کا نظام ٹھیک کرنے اور لوگوں کو اخلاقیات کا سبق دینے کے لئے نکلتے ہیں۔۔۔ کس قدر مضحکہ خیز چیز ہے!

سعادت حسن منٹو

مجھے نام نہاد کمیونسٹوں سے بڑی چڑ ہے۔ وہ لوگ مجھے بہت کھلتے ہیں جو نرم نرم صوفوں پر بیٹھ کر درانتی اور ہتھوڑے کی ضربوں کی باتیں کرتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

میں تو بعض اوقات ایسا محسوس کرتا ہوں کہ حکومت اور رعایا کا رشتہ روٹھے ہوئے خاوند اور بیوی کا رشتہ ہے۔

سعادت حسن منٹو

یاد رکھیے وطن کی خدمت شکم سیر لوگ کبھی نہیں کر سکیں گے۔ وزنی معدے کے ساتھ جو شخص وطن کی خدمت کے لئے آگے بڑھے، اسے لات مار کر باہر نکال دیجئے۔

سعادت حسن منٹو

یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

سیاسیات سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیڈروں اور دوا فروشوں کو میں ایک ہی زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ لیڈری اور دوا فروشی، یہ دونوں پیشے ہیں۔ دوا فروش اور لیڈر دونوں دوسروں کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

سیاست اور مذہب کی لاش ہمارے نامور لیڈر اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں اور سیدھے سادے لوگوں کو جو ہر بات مان لینے کے عادی ہوتے ہیں یہ کہتے پھر تے ہیں کہ وہ اس لاش کو از سر نو زندگی بخش رہے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو