Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Aslam Rashid's Photo'

اسلم راشد

1976 | گنا, انڈیا

اسلم راشد کے اشعار

166
Favorite

باعتبار

ہجر میں جلتے ہوئے اس کو کہاں دیکھ سکا

اتنی تاخیر ہوئی صرف دھواں دیکھ سکا

ہنسی ان کے لبوں تک آ گئی ہے

مکمل ہو گیا رونا ہمارا

میرؔ غالبؔ یہیں تو رہتے تھے

ہم بھی دلی سے دل لگا لیں کیا

ہوتا نہیں اداس کسی دکھ سے میں کبھی

اتنے حسین لوگ مرے آس پاس ہیں

سب کو کانٹوں پہ شک ہوا تھا مگر

زخم کے آس پاس پھول ملے

ڈھونڈ رہا ہے دریا کس کو

روز کنارے ٹوٹ رہے ہیں

آنسو بتا رہے ہیں کہ مجھ میں ہے زندگی

یعنی میں انتظار میں پتھر نہیں ہوا

پہلے اس کی آنکھیں سوچی جاتی ہیں

پھر آنکھوں میں رات بتائی جاتی ہے

جواب ہنس کے دیا اس نے اور رونے لگا

سوال پوچھ کے شرمندگی بڑھی میری

اسی پانی میں لاشیں تیرتی ہیں

اسی پانی میں پتھر بیٹھتے ہیں

آپ کا تو شوق ہے جلتے گھروں کو دیکھنا

آپ آنکھیں نم کریں گے آپ رہنے دیجیے

درد چہرہ پہن کے آیا تھا

تیرا چہرہ تھا سو قبول کیا

روٹھ جائیں گے مجھ سے اک دن سب

اس قدر روٹھتا ہوں میں سب سے

میں نے آواز بعد میں کھوئی

پہلے میں نے اسے پکارا تھا

بچھڑے تھے جس کی وجہ سے سیتا سے رام جی

میں اس ہرن کو رام کہانی سے کھینچ لوں

دن دن بھر آئینہ دیکھا جاتا ہے

تب جا کر دو چار اشارے بنتے ہیں

ایک پردا ہے صرف سانسوں کا

سانس ٹھہرے تو کائنات کھلے

میں سن رہا ہوں فون پہ خاموشیاں تری

میں جانتا ہوں آج سے کیا کیا تمام ہے

قبر پر پھول رکھنے آیا تھا

پھر یہیں گھر بنا لیا میں نے

دھوپ میں دیکھ کر پرندوں کو

اگنے لگتا ہے اک شجر مجھ میں

مجھ سے باہر نکل رہے تھے سب

میں بھی حیران سا نکل آیا

آنکھوں سے اک دریا نکلا

دریا سے کچھ لاشیں نکلیں

آنکھوں سے کیا ریت گرے گی

دریا تو اب سوکھ چکا ہے

اچھا عمل سمجھ کے جو دریا میں ڈال دیں

دل کرتا ہے وہ نیکیاں پانی سے کھینچ لوں

مسلسل ساتھ سورج کے چلی تو

کسی دن ڈوب جائے گی نظر بھی

کچھ سزا اور بڑھ گئی اس پر

زخم کھائے تو مسکرائے کیوں

Recitation

بولیے