Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بدر منیر کے اشعار

1.6K
Favorite

باعتبار

کچرے سے اٹھائی جو کسی طفل نے روٹی

پھر حلق سے میرے کوئی لقمہ نہیں اترا

جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دن

اس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دن

اس سے بڑھ کر اور کیا ہم پر ستم ہوگا منیرؔ

مشورہ مانگا ہے اس نے فیصلہ کرنے کے بعد

کنج حیرت سے چلے دشت زیاں تک لائے

کون لا سکتا ہے ہم دل کو جہاں تک لائے

کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجے

یہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہے

چراغ اندر کی سازشوں سے بجھے ہوئے ہیں

اور اس کا الزام بھی ہوا پر چلا گیا ہے

پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میں

آتے ہیں پھر چند نوالے ہاتھوں میں

بوڑھے کمزور والدین کے ساتھ

جی رہا ہوں میں کتنے چین کے ساتھ

کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلے

بے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیں

کہاں سے ہم اپنی گردشوں کا جواز ڈھونڈیں

ہمارا محور زمیں کے محور سے مختلف ہے

میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوں

نئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوں

سپہ سالار کے جب ہاتھ کانپیں تو سپاہی بھی

زیادہ دیر پھر میدان میں ٹھہرا نہیں کرتے

ایک امید کے سہارے پر

کتنی تاخیر دیکھ لیتے ہیں

مسکرا کر اگر وہ دیکھے تو

آئنے پر نشان پڑ جائے

زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نے

پھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھا

کرنی پڑ جائے وضاحت پہ وضاحت لیکن

ہم تری بات کی تردید نہیں کر سکتے

پھر اپنی اس پریم کہانی پر آیا ڈک لائن

اب وہ مجھ کو جن کہتی ہے اور میں اس کو ڈائن

جو اہل عشق ہیں دیتے ہیں زور برگر پر

جو اہل حسن ہیں سپنے ڈنر کے دیکھتے ہیں

اسی لیے تو صحافیوں کو یہ پر تکلف ڈنر دیا ہے

کسی طرف سے نہ کوئی کڑوا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

اگر ہے نیند نہ آنے کا عارضہ تجھ کو

تو بیڈ پہ لیٹ کے فوراً کوئی کتاب اٹھا

کیا ہوا ہے اسے ڈائٹنگ نے اتنا سلم

سو اس کی پکس کو ہم زوم کر کے دیکھتے ہیں

پولس کہاں سے ٹپک پڑی ہے کہا یہ ڈاکو نے سٹپٹا کر

مداخلت کا نہ رتی بھر احتمال ہوگا یہ طے ہوا تھا

پل بھر میں بنا دیتے ہیں باتوں کا بتنگڑ

رہتے ہیں سدا تاک میں احباب ہمارے

سنا تھا گنجے قسمت والے ہوتے ہیں

اور سنتے ہی سنتے عرصہ بیت گیا

کوئی پوچھے کہ کیسے امن قائم ہو اداروں میں

تو اس کی تان توڑیں گے یہ آدم زاد چھٹی پر

طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔ

تو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چل

آئینہ دیکھیں تو غصہ آتا ہے

سر سے ٹوپی اترے عرصہ بیت گیا

کر گئی ہیں دو ہی خوراکیں مجھے چنگا بھلا

دید اس کی جیسے اینٹی بائیٹک کی ڈوز ہو

ہماری زلف سیہ کا بھرم نہ کھل جائے

بچا ہوا ہے جو پیالی میں وہ خضاب اٹھا

جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیں

لگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیں

قوم کے حق میں جو بھی تجاویز تھیں التوا میں رہیں

جن میں ذاتی مفادات تھے ان پہ فوراً عمل ہو گیا

صرف تھوڑا سا انہیں غصہ دلا دیتا ہوں میں

خود بنا لیتی ہے ماتھے پر شکن اپنی جگہ

کچھ وقت جو اس شخص کی صحبت میں گزارے

آئیں گی نظر صرف اسے دہر میں غزلیں

بیگم تیری اس سے زیادہ کیا تعریف کروں

کاش تمہارے جیسی مجھ کو مل جاتی اک اور

جس منظر کا حصہ تیری ذات نہیں

میری نظر میں اس کی کوئی اوقات نہیں

چائے کا تو ذکر ہی مت کیجیے

اب تو بس کالا ہے سب کچھ دال میں

پڑھی جب شاعری بے ساختہ منہ سے یہی نکلا

تکلف بر طرف اشعار سے تصویر بہتر ہے

بن گئے دولہے ہزاروں اپنے ہاتھوں میں پلے

ہم مگر ہو جائیں گے یوں ہی پرانے ہائے ہائے

سنی یہ بات تو بے ساختہ اک دل جلی بولی

انہی کے ساتھ رہنا ہے تو پھر جنت میں کیا جانا

اہل دل پہلے بدلتے ہیں نظر کا ذائقہ

بعد میں پھر لذت کام و دہن اپنی جگہ

یہ ایسی برق ہے اکثر جو میرے سر پہ گرتی ہے

نہیں ہے فرق اس میں اور بلائے ناگہانی میں

سارا ملبہ گرا نہ دیں مجھ پر

چل رہی ہے یہ افسران میں کیا

کوئی قریب سے بولا کہ فکر مت کیجے

یہ پانچ سال اسمبلی میں جا کے سوئے گا

جب کبھی سہ بار کانوں میں پڑے حرف قبول

دل پہ لگتے ہیں ہزاروں تازیانے ہائے ہائے

اک دوست مجھ سے کہنے لگا کچھ تو شرم کر

بکرے کے ساتھ اس نے اتاری ہیں سیلفیاں

لڑ رہا ہوں میں اکیلا کارزار ہست میں

کر فراہم تو بھی ظالم اپنے ہونے کا جواز

تم نے تو دس ہزار کا جوڑا پہن لیا

ٹوٹے ہوئے ہیں میرے بٹن تم کو اس سے کیا

گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگو

پھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیا

بے چہرہ انسانوں کی اس بستی میں

اچھا ہے آئینے توڑ دئے جائیں

نکلی ہو پارلر سے فریش فیس لے کے تم

لگتا ہوں میں جو کالی چرن تم کو اس سے کیا

Recitation

بولیے