رام لعل کا تعارف
شناخت: نامور افسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نگار، خاکہ نگار اور سفرنامہ نگار
رام لعل اردو ادب کی تاریخ میں اہم نام ہے جو ترقی پسند تحریک اور جدید دور کے درمیان ایک مضبوط کڑی بن کر ابھرا۔ 1943ء سے 1960ء کے درمیان نمودار ہونے والے ادیبوں میں ان کا مقام نہایت بلند ہے، حالانکہ ناقدین نے ان کی طرف وہ رغبت نہیں دکھائی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ بیک وقت ایک ناول نگار، تنقید نگار، ڈرامہ نگار، خاکہ نگار اور سب سے بڑھ کر ایک اعلیٰ پایہ کے افسانہ نگار تھے۔
رام لعل 3 مارچ 1923ء کو میانوالی (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے، جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ ان کے والد کا نام لچھن داس چھابرہ تھا۔ محض دو سال کی عمر میں والدہ کے انتقال اور سوتیلی ماں کے سرد رویے نے ان کی حساس طبیعت پر گہرے اثرات مرتب کیے، جسے وہ عمر بھر محسوس کرتے رہے۔ انہوں نے دسویں جماعت تک تعلیم سنتا دھرم اسکول، میانوالی سے حاصل کی۔
سولہ سال کی عمر میں انہوں نے ہندوستانی ریلوے میں ملازمت اختیار کی۔ ریلوے کی اس ملازمت نے انہیں پورے ہندوستان کی سیاحت کا موقع فراہم کیا۔ وہ جہاں بھی جاتے، وہاں کے لوگوں کی معاشی، سماجی اور معاشرتی صورتحال کا گہرا مشاہدہ کرتے۔ یہی انسانی ہمدردی اور متنوع تجربات ان کے افسانوں کا خام مال بنے۔
ان کی پہلی کہانی "خیام" 1943ء میں لاہور کے ہفت روزہ اخبار 'ویکلی' میں شائع ہوئی۔ 1945ء میں ان کا پہلا مجموعہ "آئیے" منظرِ عام پر آیا۔ یہ وہ دور تھا جب اردو افسانہ کرشن چندر، منٹو اور بیدی کے زیرِ اثر تھا، مگر رام لعل نے اپنی الگ شمع روشن کی۔ ان کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ ان کے افسانے ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی زبانوں (ہندی، تامل، مراٹھی، پنجابی وغیرہ) کے علاوہ روسی، فرانسیسی، عربی اور انگریزی میں بھی ترجمہ ہو چکے ہیں۔
رام لعل نے کم و بیش 52 کتب تصنیف کیں، جن میں 16 افسانوی مجموعے شامل ہیں۔
افسانوی مجموعے: آواز تو پہچانو، انقلاب آنے تک، گلی گلی، چراغوں کا سفر، اکھرے ہوئے لوگ، معصوم آنکھیں وغیرہ۔
ناول: نیل دھارا (1981)، آگے پیچھے، اور چاچی کا ڈبہ۔
ڈرامہ: "آتش خور" ان کا طویل اور مشہور ڈرامہ ہے۔
خاکہ نگاری: "دریچوں میں رکھے چراغ" میں انہوں نے اردو ادب کی 21 نامور شخصیات کے جیتے جاگتے خاکے پیش کیے۔
سفرنامے: زرد پتوں کی بہار، خواب خواب سفر اور ماسکو یاترا ان کے عالمی سیاحت کے دستاویز ہیں۔
رام لعل نے زیادہ تر متوسط طبقے کے ہندو مسلم خاندانوں کو موضوع بنایا۔ علی عباس حسینی نے ان کی نفسیاتی گہرائی اور سادہ بیانی کو دیکھ کر انہیں اردو کا "سرت چندر چٹرجی" بننے کی پیشن گوئی کی تھی، جسے انہوں نے اپنی تخلیقات سے سچ کر دکھایا۔ ان کا افسانہ "نصیب جلی" ہندو مسلم بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے، جبکہ "رسٹ واچ" انسانی نفسیات اور جذباتی کشمکش کا شاہکار ہے۔
انہیں ان کی ادبی خدمات کے عوض کئی ملکی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں غالب ایوارڈ، شیرومانی اردو ساہتیہ کار، اور ڈنمارک کا بھلے شاہ ایوارڈ شامل ہیں۔ وہ اتر پردیش اردو اکاڈمی کے نائب صدر بھی رہے۔
وفات: 16 اکتوبر 1996 کو لکھنو میں انتقال ہوا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84074272