قادر نامۂ غالب

مرزا غالب

قادر نامۂ غالب

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    دلچسپ معلومات

    غالب کے سات بچے تھے لیکن افسوس ان میں سے کوئی بھی پندرہ ماہ سے زائد تک نہ جیا اور غالب لا ولد ہی مرے۔ اپنی اسی تنہائی اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر غالب نے زین العابدین خاں عارف کو متبنیٰ بنا لیا تھا جو ان کی بیوی کے بھانجے تھے۔ لیکن عین شباب کے عالم میں پینتیس سال کی عمر میں، عارف بھی وفات پا گئے، اور انہی عارف مرحوم کے چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کے لیے غالب نے 'مثنوی قادر نامہ' لکھی تھی۔ دراصل یہ مثنوی ایک طرح کی لغت نامہ ہے جس میں غالب نے عام استعمال کے فارسی اور عربی الفاظ کے ہندی یا اردو مترادف بیان کیے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہو سکے۔1856

    قادر اور اللہ اور یزداں خدا

    ہے نبی مرسل پیمبر رہنما

    پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام

    وہ رسول اللہ کا قائم مقام

    ہے صحابی دوست خالص ناب ہے

    جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے

    بندگی کا ہاں عبادت نام ہے

    نیک بختی کا سعادت نام ہے

    کھولنا افطار ہے اور روزہ صوم

    لیل یعنی رات دن اور روز یوم

    ہے صلوٰۃ اے مہرباں اسم نماز

    جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز

    جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہی

    اور سجادہ بھی گویا ہے وہی

    اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام

    کعبہ مکہ وہ جو ہے بیت الحرام

    گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف

    بیٹھ رہنا گوشے میں ہے اعتکاف

    پھر فلک چرخ اور گردوں اور سپہر

    آسماں کے نام ہیں اے رشک مہر

    مہر سورج چاند کو کہتے ہیں ماہ

    ہے محبت مہر لازم ہے نباہ

    غرب پچھم اور پورب شرق ہے

    ابر بدلی اور بجلی برق ہے

    آگ کا آتش اور آذر نام ہے

    اور انگارے کا اخگر نام ہے

    تیغ کی ہندی اگر تلوار ہے

    فارسی پگڑی کی بھی دستار ہے

    نیولا راسو ہے اور طاؤس مور

    کبک کو ہندی میں کہتے ہیں چکور

    خم ہے مٹکا اور ٹھلیا ہے سبو

    آب پانی بحر دریا نہر جو

    چاہ کو کہتے ہیں ہندی میں کنواں

    دود کو ہندی میں کہتے ہیں دھواں

    دودھ جو پینے کا ہے وہ شیر ہے

    طفل لڑکا اور بوڑھا پیر ہے

    سینہ چھاتی دست ہاتھ اور پا پاؤں

    شاخ ٹہنی برگ پتا سایہ چھانو

    ماہ چاند اختر ہیں تارے رات شب

    دانت دنداں ہونٹ کو کہتے ہیں لب

    استخواں ہڈی ہے اور ہے پوست کھال

    سگ ہے کتا اور گیدڑ ہے شغال

    تل کو کنجد اور رخ کا گال کہہ

    گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ

    کیکڑا سرطان ہے کچھوا سنگ پشت

    ساق پنڈلی فارسی مٹھی کی مشت

    ہے شکم پیٹ اور بغل آغوش ہے

    کہنی آرنج اور کندھا دوش ہے

    ہندی میں عقرب کا بچھو نام ہے

    فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے

    ہے وہی کژدم جسے عقرب کہیں

    نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں

    ہے لڑائی حرب اور جنگ ایک چیز

    کعب ٹخنا اور شتالنگ ایک چیز

    ناک بینی پرہ نتھنا گوش کان

    کان کی لو نرمہ ہے اے مہربان

    چشم ہے آنکھ اور مژگاں ہے پلک

    آنکھ کی پتلی کو کہیے مردمک

    منہ پہ گر جھری پڑے آزنگ جان

    فارسی چھینکے کی تو آونگ جان

    مسا آژخ اور چھالا آبلہ

    اور ہے دائی جنائی قابلہ

    اونٹ اشتر اور اشغر سیہ ہے

    گوشت ہے لحم اور چربی پیا ہے

    ہے زنخ ٹھوڑی ذقن بھی ہے وہی

    خاد ہے چیل اور زغن بھی ہے وہی

    پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل

    چیونٹی ہے مور اور ہاتھی ہے فیل

    لومڑی روباہ اور آہو ہرن

    شمس سورج اور شعاع اس کی کرن

    اسپ جب ہندی میں گھوڑا نام پائے

    تازیانہ کیوں نہ کوڑا نام پائے

    گربہ بلی موش چوہا دام جال

    رشتہ تاگا جامہ کپڑا قحط کال

    خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں الاغ

    دیگداں چولہا جسے کہیے اجاغ

    ہندی چڑیا فارسی گنجشک ہے

    مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے

    تابہ ہے بھائی توے کی فارسی

    اور تیہو ہے لوئی کی فارسی

    نام مکڑی کا قلاش اور عنکبوت

    کہتے ہیں مچھلی کو ماہی اور ہوت

    پشہ مچھر اور مکھی ہے مگس

    آشیانہ گھونسلہ پنجرہ قفس

    بھیڑیا گرگ اور بکری گوسپند

    میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند

    نام گل کا پھول شبنم اوس ہے

    جس کو نقارا کہیں وہ کوس ہے

    سقف چھت ہے سنگ پتھر اینٹ خشت

    جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت

    خار کانٹا داغ دھبہ نغمہ راگ

    سیم چاندی مس ہے تانبا بخت بھاگ

    زر ہے سونا اور زر گر ہے سنار

    موز کیلا اور ککڑی ہے خیار

    ریش داڑھی موچھ سبلت اور بروت

    احمق اور نادان کو کہتے ہیں اوت

    زندگانی ہے حیات اور مرگ موت

    شوے خاوند اور ہے انباغ سوت

    جملہ سب اور نصف آدھا ربع پاؤ

    صرصر آندھی سیل نالہ باد باؤ

    ہے جراحت اور زخم اور گھاؤ ریش

    بھینس کو کہتے ہیں بھائی گاؤ میش

    ہفت سات اور ہشت آٹھ اور بست بیس

    سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس

    ہے چہل چالیس اور پنجاہ پچاس

    ناامیدی یاس اور امید آس

    دوش کل کی رات اور امروز آج

    ارد آٹا اور غلہ ہے اناج

    چاہیے ہے ماں کو مادر جاننا

    اور بھائی کو برادر جاننا

    پھاوڑا بیل اور درانتی واس ہے

    فارسی کاہ اور ہندی گھاس ہے

    سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ

    خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ

    چکسہ پڑیا کیسے کا تھیلی ہے نام

    فارسی میں دھپے کا سیلی ہے نام

    اخلکندو جھنجنا نیرو ہے زور

    بادفر پھرکی ہے اور ہے دزد چور

    انگبیں شہد اور عسل یہ اے عزیز

    نام کو ہیں تین پر ہے ایک چیز

    عاجل اور آروغ کی ہندی ڈکار

    مے شراب اور پینے والا میگسار

    روئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو

    آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو

    خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہے

    قلعہ دژ کھائی کا خندق نام ہے

    ہے بنولا پنبہ دانہ لا کلام

    اور تربز ہند دانہ لا کلام

    گر دریچہ فارسی کھڑکی کی ہے

    سرزنش بھی فارسی جھڑکی کی ہے

    ہے کہانی کی فسانہ فارسی

    اور شعلے کی زبانہ فارسی

    نعل در آتش اسی کا نام ہے

    جو کہ بے چین اور بے آرام ہے

    پست اور ستو کو کہتے ہیں سویق

    ژرف اور گہرے کو کہتے ہیں عمیق

    تار تانا پود بانا یاد رکھ

    آزمودن آزمانا یاد رکھ

    یوسہ مچھی چاہنا ہے خواستن

    کم ہے اندک اور گھٹانا کاستن

    خوش رہو ہنسنے کو خندیدن کہو

    گر ڈرو ڈرنے کو ترسیدن کہو

    ہے ہراسیدن بھی ڈرنا کیوں ڈرو

    اور جنگیدن ہے لڑنا کیوں لڑو

    ہے گزرنے کی گذشتن فارسی

    اور پھرنے کی ہے گشتن فارسی

    وہ سرودن ہے جسے گانا کہیں

    ہے وہ آوردن جسے لانا کہیں

    زیستن کو جان من جینا کہو

    اور نوشیدن کو تم پینا کہو

    دوڑنے کی فارسی ہے تاختن

    کھیلنے کی فارسی ہے باختن

    دوختن سینا دریدن پھاڑنا

    کاشتن بونا ہے رفتن جھاڑنا

    کاشتن بونا ہے اور کشتن بھی ہے

    کاتنے کی فارسی رشتن بھی ہے

    ہے ٹپکنے کی چکیدن فارسی

    اور سننے کی شنیدن فارسی

    کودنا جستن بریدن کاٹنا

    اور یسیدن کی ہندی چاٹنا

    دیکھنا دیدن رمیدن بھاگنا

    جان لو بیدار بودن جاگنا

    آمدن آنا بنانا ساختن

    ڈالنے کی فارسی انداختن

    سوختن جلنا چمکنا تافتن

    ڈھونڈھنا جستن ہے پانا یافتن

    باندھنا بستن کشادن کھولنا

    داشتن رکھنا ہے سختن تولنا

    تولنے کو اور سنجیدن کہو

    پھر خفا ہونے کو رنجیدن کہو

    فارسی سونے کو خفتن جانیے

    منہ سے کچھ کہنے کو گفتن جانیے

    کھینچنے کی ہے کشیدن فارسی

    اور اگنے کی دمیدن فارسی

    اونگھنا پوچھو غنودن جان لو

    مانجھنا چاہو زدودن جان لو

    ہے قلم کا فارسی میں خامہ نام

    ہے غزل کا فارسی میں چامہ نام

    کس کو کہتے ہیں غزل ارشاد ہو

    ہاں غزل پڑھیے سبق گر یاد ہو

    صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا

    جمعے کے دن وعدہ ہے دیدار کا

    وہ چراوے باغ میں میوہ جسے

    پھاند جانا یاد ہو دیوار کا

    پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ

    ورنہ تھا اپنا ارادہ پار کا

    شہر میں چھڑیوں کے میلے کی ہے بھیڑ

    آج عالم اور ہے بازار کا

    لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا

    پل پہ چل ہے آج دن اتوار کا

    گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلاؤں تمہیں

    کاٹ اپنی کاٹھ کی تلوار کا

    واہ بے لڑکے پڑھی اچھی غزل

    شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا

    تو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم

    پوزی افسار اور دمچی پاردم

    چھلنی کو غربال پرویزن کہو

    چھید کو تم رخنہ اور روزن کہو

    چہ کے معنی کیا چگویم کیا کہوں

    من شوم خاموش میں چپ ہو رہوں

    باز خواہم رفت میں پھر جاؤں گا

    نان خواہم خورد روٹی کھاؤں گا

    فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ

    اور گھنٹالا درا ہے یاد رکھ

    دشت صحرا اور جنگل ایک ہے

    پھر سہ شنبہ اور منگل ایک ہے

    جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے

    فارسی بینگن کی باذنجان ہے

    جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے

    جو ہے انگڑائی وہی خمیازہ ہے

    یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ

    پاڑ ہے تالار اک عالم سے پوچھ

    جس طرح گہنے کی زیور فارسی

    اس طرح ہنسلی کی پرگر فارسی

    بھڑ کی بھائی فارسی زنبور ہے

    دسپنا انبر ہے اور انبور ہے

    فارسی آئینہ ہندی آرسی

    اور ہے کنگھے کی شانہ فارسی

    ہینگ انگوزہ ہے اور ارزیر رانگ

    ساز باجا اور ہے آواز بانگ

    زوجہ جورو یزنہ بہنوئی کو جان

    خشم غصے اور بد خوئی کو جان

    لوہے کو کہتے ہیں آہن اور حدید

    جو نئی ہو چیز اسے کہیے جدید

    ہے نوا آواز ساماں اور اول

    نرخ قیمت اور بہا یہ سب ہیں مول

    سیر لہسن ترب مولی ترہ ساگ

    کھا بخور برخیز اٹھ بگریز بھاگ

    روئی کی پونی کا ہے پاغند نام

    دوک تکلے کو کہیں گے لا کلام

    گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ

    اور ہے نداف دھنیا یاد رکھ

    کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ

    فارسی گلخن ہے اور ہندی ہے بھاڑ

    تکیہ بالش اور بچھونا بسترہ

    اصل بستر ہے سمجھ لو تم ذرا

    بسترہ بولیں سپاہی اور فقیر

    ورنہ بستر کہتے ہیں برنا و پیر

    پیر بوڑھا اور برنا ہے جواں

    جان کو البتہ کہتے ہیں رواں

    اینٹ کے گارے کا نام آژند ہے

    ہے نصیحت بھی وہی جو پند ہے

    پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ہاں

    ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں

    کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں

    عنق گردن اور پیشانی جبیں

    آس چکی آسیا مشہور ہے

    اور فوفل چھالیا مشہور ہے

    بانسلی نے اور جلاجل جھانجھ ہے

    پھر سترون اور عقیمہ بانجھ ہے

    کحل سرمہ اور سلائی میل ہے

    جس کو جھولی کہیے وہ زنبیل ہے

    پایا قادر نامے نے آج اختتام

    اک غزل تم اور پڑھ لو والسلام

    شعر کے پڑھنے میں کچھ حاصل نہیں

    مانتا لیکن ہمارا دل نہیں

    علم سے ہی قدر ہے انسان کی

    ہے وہی انسان جو جاہل نہیں

    کیا کہیں کھائی ہے حافظ جی کی مار

    آج ہنستے آپ جو کھل کھل نہیں

    کس طرح پڑھتے ہو رک رک کر سبق

    ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں

    جس نے قادر نامہ سارا پڑھ لیا

    اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 460)
    • Author : kalidas gupta raza
    • مطبع : Sakar Publishers Private Limited (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY