منظور ہے گزارش احوال واقعی

مرزا غالب

منظور ہے گزارش احوال واقعی

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    INTERESTING FACT

    ۱۸۵۲ء

    منظور ہے گزارش احوال واقعی

    اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے

    سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری

    کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

    آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل

    ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

    کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں

    مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے

    استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال

    یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے

    جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر

    سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے

    میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا

    جز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے

    سہرا لکھا گیا زرہ امتثال امر

    دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے

    مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات

    مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے

    روے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ

    سودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے

    قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں

    ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے

    صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ

    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 422)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY