ایک زمانے میں اخباروں سے صر ف خبروں کا کام لیا جاتا تھا۔ یا پھر لوگ سیاسی رہنمائی کے لیے انہیں پڑھتے تھے۔ آج تو اخبار زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہیں۔ سیٹھ اس میں منڈیوں کے بھاؤ پڑھتا ہے۔ بڑے میاں ضرورت رشتہ کے اشتہارات ملاحظہ کرتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں۔ عزیز طالب علم فلم کے صفحات پر نظر ٹکاتا ہے اور علم کی دولت نایاب پاتا ہے۔ بی بی اس میں ہنڈیا بھوننے کے نسخے ڈھونڈتی ہے اور بعض لوگوں نے تو اخباری نسخے دیکھ دیکھ کر مطب کھول لیے ہیں۔ پچھلے دنوں عورتوں کے ایک اخبار میں ایک بی بی نے لکھ دیا تھا کہ پریشر ککر تو مہنگا ہوتا ہے اسے خریدنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کام بہ خوبی ڈالڈا کے خالی ڈبہ سے لیا جاسکتا ہے۔ کفایت شعار بیویوں نے یہ نسخہ آزمایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کئی زخمی ہوئیں اور ایک آدھ بی بی تو مرتے مرتے بچی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.