آئے گا کہہ کر گیا تھا پھر مگر آیا نہیں

بھاسکر شکلا

آئے گا کہہ کر گیا تھا پھر مگر آیا نہیں

بھاسکر شکلا

MORE BY بھاسکر شکلا

    آئے گا کہہ کر گیا تھا پھر مگر آیا نہیں

    منتظر میں رہ گیا وہ لوٹ کر آیا نہیں

    اک نظر آیا نظر وہ پھر نظر سے چھپ گیا

    پھر نظر کو اک نظر بھی وہ نظر آیا نہیں

    زندگی کے راستے پر طے کیا لمبا سفر

    پر سفر میں زندگی کے ہم سفر آیا نہیں

    ایک ڈر اکثر ڈراتا ہے مجھے بھی آج تک

    آج تک کیوں دل میں میرے کوئی ڈر آیا نہیں

    وہ اثر جس کے اثر پہ ہر اثر ہو بے اثر

    اب تلک تیری غزل میں وہ اثر آیا نہیں

    یہ جو ہر سو تیرگی بکھری ہوئی ہے اس قدر

    کیا تری محفل میں اب تک بھاسکرؔ آیا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites