اگر گل ہے تو گل جیسا مہکتا کیوں نہیں ہے
اگر گل ہے تو گل جیسا مہکتا کیوں نہیں ہے
وہ جیسا خود کو بتلاتا ہے ویسا کیوں نہیں ہے
کسی بھی حادثے پر کوئی روتا کیوں نہیں ہے
اگر سینہ میں دل ہے تو دھڑکتا کیوں نہیں ہے
پیمبر امن کا کہتا تھا جس کو اک زمانہ
چھتوں پر اب ہماری وہ پرندہ کیوں نہیں ہے
ہمارے دل کے بجھنے کی خبر ہم تک ہے لیکن
فلک پر آج روشن کوئی تارہ کیوں نہیں ہے
مجھے یہ ضد میں اپنا حال اس کو کیوں سناؤں
وہ میرا ہے تو میرا دکھ سمجھتا کیوں نہیں ہے
دیا تم نے جلایا ہے اگر انصاف کا تو
اجالا اس کا مظلوموں کو ملتا کیوں نہیں ہے
جو یہ سوچوں تو دل آنکھوں میں آ جاتا ہے اکثر
ہمارا ہو کبھی وہ اب ہمارا کیوں نہیں ہے
چلا کرتے تھے جس کی رہنمائی میں کبھی ہم
ہماری راہ میں اب وہ ستارا کیوں نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.