Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اگر گل ہے تو گل جیسا مہکتا کیوں نہیں ہے

وسیم ملک

اگر گل ہے تو گل جیسا مہکتا کیوں نہیں ہے

وسیم ملک

MORE BYوسیم ملک

    اگر گل ہے تو گل جیسا مہکتا کیوں نہیں ہے

    وہ جیسا خود کو بتلاتا ہے ویسا کیوں نہیں ہے

    کسی بھی حادثے پر کوئی روتا کیوں نہیں ہے

    اگر سینہ میں دل ہے تو دھڑکتا کیوں نہیں ہے

    پیمبر امن کا کہتا تھا جس کو اک زمانہ

    چھتوں پر اب ہماری وہ پرندہ کیوں نہیں ہے

    ہمارے دل کے بجھنے کی خبر ہم تک ہے لیکن

    فلک پر آج روشن کوئی تارہ کیوں نہیں ہے

    مجھے یہ ضد میں اپنا حال اس کو کیوں سناؤں

    وہ میرا ہے تو میرا دکھ سمجھتا کیوں نہیں ہے

    دیا تم نے جلایا ہے اگر انصاف کا تو

    اجالا اس کا مظلوموں کو ملتا کیوں نہیں ہے

    جو یہ سوچوں تو دل آنکھوں میں آ جاتا ہے اکثر

    ہمارا ہو کبھی وہ اب ہمارا کیوں نہیں ہے

    چلا کرتے تھے جس کی رہنمائی میں کبھی ہم

    ہماری راہ میں اب وہ ستارا کیوں نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے