اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میں

بلدیو سنگھ ہمدم

اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میں

بلدیو سنگھ ہمدم

MORE BY بلدیو سنگھ ہمدم

    اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میں

    خوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میں

    ہزار عیش سہی زندگی کے دامن میں

    مگر ہے صبر کہاں آدمی کے دامن میں

    اگر سکوں ہے تو ہے بندگی کے دامن میں

    ملے گی منزل عرفاں اسی کے دامن میں

    کسی کی یاد میں آنسو جو آنکھ سے ٹپکے

    جواہرات ہیں یہ عاشقی کے دامن میں

    کمال ضبط یہی ہے وقار عشق یہی

    چھپی ہو آرزوئے دل خودی کے دامن میں

    حدیث عشق و محبت کا ترجماں جو ہو

    ادب کے پھول کھلے ہیں اسی کے دامن میں

    بہ چشم غور جو دیکھو تو اور بھی کچھ ہے

    فقط گناہ نہیں آدمی کے دامن میں

    اجل ہزار بری چیز ہے مگر ہمدم

    پناہ ملتی ہے آخر اسی کے دامن میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites