بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے

کیف مرادآبادی

بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے

کیف مرادآبادی

MORE BY کیف مرادآبادی

    بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے

    زمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئے

    نہیں ہے وقف اگر زندگی کسی کے لئے

    تو ہر قدم پہ تباہی ہے آدمی کے لئے

    کمال جب ہے کہ اس راہ میں چراغ جلاؤ

    جو مدتوں سے ترستی ہے روشنی کے لئے

    فریب شوق فریب نظر فریب خیال

    ہزار دام ہیں اک ذوق آگہی کے لئے

    تمہاری بزم میں کیا شکوۂ غم ہستی

    یہاں تو سانس بھی نعمت ہے زندگی کے لئے

    گلوں نے آگ لگا دی تمام گلشن میں

    ذرا سی دیر کے لطف شگفتگی کے لئے

    کوئی تو بات ترے آستاں میں ہے ورنہ

    ہزار در تھے مرے ذوق بندگی کے لئے

    وہاں ہواؤں کے رخ بھی نگاہ میں رکھنا

    جہاں چراغ جلاتے ہو روشنی کے لئے

    نہ جانے کتنی بہاروں کا خوں ہوا ہوگا

    نگار خانۂ عالم کی دل کشی کے لئے

    فروغ بادہ نہیں ہے حریف تشنہ لبی

    کچھ اور لاؤ مرے ذوق مے کشی کے لئے

    نگاہ برق ہے جب سے مرے چمن کی طرف

    دعائیں مانگ رہا ہوں کلی کلی کے لئے

    جو ان کے غم سے ہو نسبت تو ہر جہان میں کیفؔ

    مسرتوں کا خزانہ ہے آدمی کے لئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites