بے سمت و بے خیال تھی اور میں سفر میں تھی

دعا علی

بے سمت و بے خیال تھی اور میں سفر میں تھی

دعا علی

MORE BY دعا علی

    بے سمت و بے خیال تھی اور میں سفر میں تھی

    وہ شام پر ملال تھی اور میں سفر میں تھی

    ایسے ہی اک سفر میں تھا وہ میرے ساتھ ساتھ

    سو قرب سے نہال تھی اور میں سفر میں تھی

    اک راستہ طویل تھا رم جھم کا تھا سماں

    وہ شام بے مثال تھی اور میں سفر میں تھی

    ایسی ہی ایک شام تھی جب وہ چلا گیا

    بس غم سے میں نڈھال تھی اور میں سفر میں تھی

    بس اتنا یاد تھا مجھے چلنا ہے بے تھکن

    ہمت مری بحال تھی اور میں سفر میں تھی

    کب شام ڈھل گئی دعاؔ اور رات آ گئی

    اب تیرگی سوال تھی اور میں سفر میں تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites