ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند

بدیع الزماں خاور

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند

بدیع الزماں خاور

MORE BY بدیع الزماں خاور

    ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند

    ہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاند

    پہلی شام نظر آیا تھا بالکل ایسا جیسے ناخن

    چودہ دن میں دیکھو کتنا بڑا ہوا ہے چاند

    اس نے پیڑ سے کود کے جانے کتنے غوطے کھائے

    بندر کو جب لگا ندی میں گرا ہوا ہے چاند

    تھوڑا سا نیچے آئے تو اس کو ہم بھی چھو لیں

    بتی جیسا یہ جو اوپر جلا ہوا ہے چاند

    سچ کیا ہے یہ چاند پہ جا کر کاش اک دن میں دیکھوں

    سب بتلاتے ہیں پتھر کا بنا ہوا ہے چاند

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites