گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا

عابد ادیب

گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا

عابد ادیب

MORE BYعابد ادیب

    گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا

    قلب شکستہ اور یہ عالم گداز کا

    چاروں طرف سجی ہیں دکانیں خلوص کی

    چمکا ہے کاروبار ہر اک حیلہ ساز کا

    وہ چاہے خواب ہو کہ حقیقت مگر کبھی

    احساں اٹھائے گا نہ لباس مجاز کا

    جس طرح چاہا جائے ہے چاہا نہیں ابھی

    اندیشہ جان کھائے ہے افشائے راز کا

    بہروپیا ہے کوئی پھرے ہے نگر نگر

    قاتل کا روپ دھارے کبھی چارہ ساز کا

    یوں ہنستے ہنستے دار فنا سے چلا ہے وہ

    جیسے سفر نصیب ہو ارض حجاز کا

    عابدؔ غموں کی دھوپ میں جلنا ہے چار دن

    بس قصہ مختصر ہے یہ عمر دراز کا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY