اس نے خواب میں مجھ کو جب دو کنول دیے

نگہت نسیم

اس نے خواب میں مجھ کو جب دو کنول دیے

نگہت نسیم

MORE BY نگہت نسیم

    اس نے خواب میں مجھ کو جب دو کنول دیے

    جیون کی ندیا کے دھارے بدل دیے

    ان پھولوں کی اب بھی یاد ستاتی ہے

    پھول جو اپنے ہاتھوں خود ہی مسل دیے

    میں نے جھیل کنارے اس کا نام لیا

    جھیل نے ہنس کے نیلے موتی اگل دیے

    سارے ارماں کب نکلے ہیں سینے سے

    ایسے بھی ہیں سینے میں جو مچل دیے

    ایسے بھی تھے لوگ جو گر کے سنبھلے کم

    ہم نے ٹھوکر کھائی اور پھر سنبھل دیے

    اس دکھ نے رکھا ہے مجھ کو ابد تلک

    جس دکھ نے ہاں مجھ کو جام ازل دیے

    اس نے ہنس کر مجھ سے میری باتیں کیں

    لمحے بھر میں سارے موسم بدل دیے

    اس سے نگہتؔ قائم میرا پیار رہے

    جس نے یہ اشعار بہ صورت غزل دیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites