تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
آ گئے ہو تو رہو ساتھ سحر ہونے تک
اب اپنے دیدہ و دل کا بھی اعتبار نہیں
اب آفتاب منور پہ قرب شام ہوا
اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا
اب کسی کو نہیں مرا افسوس
اب کسے یارا ہے ضبط نالہ و فریاد کا
اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں
ابر و شاکر رہے شاداں رہے
ابھی توقع بنائے رکھنا ابھی امیدیں جگائے رہنا
آپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا
اپنی اور کسی سے کس دن راہ و رسم و رفاقت تھی
اپنی قسمت کا ستارا سر مژگاں دیکھا
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
اتنا محتاط کہ جنبش نہیں کرنے دے گا
آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا
آخری معرکہ اب شہر دھواں دھار میں ہے
ارتباط باہمی شیخ و برہمن میں نہیں
آرزو تجھ سے ترا بوسہ بھی کب مانگے ہے
آرزو رکھنا محبت میں بڑا مذموم ہے
آرزو کو دل ہی دل میں گھٹ کے رہنا آ گیا
آرزوؤں کے دھڑکتے شہر جل کر رہ گئے
اس اندھے قید خانے میں کہیں روزن نہیں ہوتا
اس عشق میں درکار کہانی ہے ضروری
اس کو تم میرے تعلق کا حوالہ دیتے
اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
اس نے یوں راستہ دیا مجھ کو
آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ
اسے پانے کی کرتے ہو دعا تو
اسی خیال سے دل میں مرے اجالا ہے
اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا
اک خواب کے اثر میں کئی دن گزر گئے
اک قیامت ہے جوانی اک قیامت ہے شباب
اک قیامت وقت سے پہلے بپا ہونے کو ہے
اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے
اک یادگار چاہیے کوئی نشاں رہے
اگر ان بازووں میں دم نہیں ہے
اگر بات تیری ہو پیاری لگے
اگر جو پیار خطا ہے تو کوئی بات نہیں
اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو
الٰہی دل کو میرے کچھ خوشی ہوتی تو اچھا تھا
امیر شہر کی چوکھٹ پہ جا کے لوٹ آیا
ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئے
ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے
ان کو سب لگتے ہیں چہرے خوب صورت
انسان کے لئے اس دنیا میں دشنام سے بچنا مشکل ہے
انقلابی سوچ شاعر کا قلم اپنی جگہ
آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا
آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر
آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے
آنکھوں دیکھی بات کہانی لگتی ہے
آنکھیں دے آئینہ دے
انہیں باتوں سے اس کی خو بگڑی
آنے جانے کا ہے یہ رستہ کیوں
آہ بھرتا ہوں تو بھرنے بھی نہیں دیتا ہے
آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی
آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیا
اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریں
اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا
آؤ تو بہل جائے میرا دل دیوانہ
آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک
اور جیتے رہیں کہ مر جائیں
اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہو
اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقی
اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھا
ایسا منظر تو کبھی دیکھا نہ تھا
ایک صدی میں بیتا ہوں
ایک کافر سے محبت ہو گئی
آئنہ سامنے رکھا ہوگا
آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا
آئینۂ رنگین جگر کچھ بھی نہیں کیا
بار تجھ ہجر کا بھاری ہے خدا خیر کرے
بام و در ٹوٹ گئے بہہ گیا پانی کتنا
بتائیں کیا کہ کتنا جانتے ہیں
بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے
برا کہنے سے مجھ کو مدعا کیا
برق بیتاب ہے تم رخ کی چمک تو دیکھو
بس کہ اب زلف کا سودا بھی مرے سر میں نہیں
بشر کی ذات کو غم سے کہاں مفر ہے میاں
بگاڑ میں بھی بناؤ ہے آدمی کے لئے
بنا کے اک نئی منزل گزر گئے ہوتے
بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہے
بھرے پرے سے مکاں میں بھی شاہؔ تنہا ہے
بھلا برا وہ خدا کرے گا
بھلانے کے لیے راضی تجھے یہ دل نہیں ہوتا
بے گناہ قتل ہوتے جاتے ہیں (ردیف .. د)
بے مہریٔ قضا کے ستائے ہوئے ہیں ہم
بیاں اپنا دکھ اب کیا جائے نا
بیٹھ کر پاس نہ ارمان بھرا دل دیکھا
بیمار غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے
پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہے
پردے کو جو لو دے وہ جھلک اور ہی کچھ ہے
پرندے آزمائے جا رہے تھے
پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں
پھر بڑھا جوش جنوں صورت سیلاب مجھے
پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میں
پہلی پہلی وہ ملاقات وہ برسات کی رات
پہلے تھا اشک بار آج بھی ہے
پہلے تو درد دل کا خلاصہ کرے کوئی
پہلے درد دل پہ کہتے تھے کہ یہ کیا ہو گیا
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 524 items