تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
آ کر عروج کیسے گرا ہے زوال پر
اب کوئی اور مصیبت تو نہ پالی جائے
اپنی تنہائی کا سامان اٹھا لائے ہیں
اپنے حصے کی انا دوں تو انا دوں کس کو
آج پھر روبرو کرو گے تم
آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے
آخر بگڑ گئے مرے سب کام ہونے تک
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا
اس عرصۂ محشر سے گزر کیوں نہیں جاتے
اس کا حال کمر کھلا ہمدم
اس نگاہ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی
اشک کو دریا بنایا آنکھ کو ساحل کیا
اک طرف پیار ہے رشتہ ہے وفاداری ہے
اے دل ترے طفیل جو مجھ پر ستم ہوئے
اے ذوق عرض ہنر حرف اعتدال میں رکھ
اے عمر ناز تجھ کو گزارے گزر نہ تھا
اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اور
ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے
ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں
آئنہ سے گزرنے والا تھا
آئنہ ہے خیال کی حیرت
باقی نہ حجت اک دم اثبات رہ گئی
بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا
برسوں سے ہوں میں زمزمہ پرداز محبت
بہ وقت شام امیدوں کا ڈھل گیا سورج
بے زبانوں کو بھی گویائی سکھانا چاہئے
پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعد
پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارس
پنہاں تھا خوش نگاہوں کی دیدار کا مرض
پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینۂ خواب
پوچھتے ہیں تجھ کو سفاکی کہاں رہ کر ملی
تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائے
تلاطم ہے نہ جاں لیوا بھنور ہے
تیری تصویروں کو دیکھ پگھلتی ہیں
جاننے کے لئے بیتاب تھا اغیار کا حال
جب جذبہ اک بار جگر میں آتا ہے
جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے
جسم کو جینے کی آزادی دیتی ہیں
جو ساقیا تو نے پی کے ہم کو دیا ہے جام شراب آدھا
جو کہا تھا تمہیں سنا بھی تھا
جو مری پشت میں پیوست ہے اس تیر کو دیکھ
چشم خوش آب کی تمثیل میں رہنے والے
چمکا جو تیرگی میں اجالا بکھر گیا
چمن میں رہ کے بھی کیوں دل کی ویرانی نہیں جاتی
حضور غیر تم عشاق کی تحقیر کرتے ہو
خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا
خوش بہت آتے ہیں مجھ کو راستے دشوار سے
خوشیاں مت دے مجھ کو درد و کیف کی دولت دے سائیں
درد کی ساکت ندی پھر سے رواں ہونے کو ہے
درس لیں گے دل کے اک بے ربط افسانے سے کیا
دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے
دل بھی جیسے ہمارا کمرہ تھا
دل نے میری نہیں سنی توبہ
دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے
رگ و پے میں بھرا ہے میرے شور اس کی محبت کا
زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں
سایہ آیا مرے ہم راہ نہ ہم زاد آیا
سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا
سچ کی خاطر سب کچھ کھویا کون لکھے گا
سردی و گرمی و برسات میں آ جاتا ہے
سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں
سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے
سمندر سے کسی لمحے بھی طغیانی نہیں جاتی
سہمی ہے شام جاگی ہوئی رات ان دنوں
سوتے ہیں پھیل پھیل کے سارے پلنگ پر
سینہ کوبی کر چکے غم کر چکے
شرف انسان کو کب ظل ہما دیتا ہے
شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب
شورش حرف ہے ایاغ میں کچھ
عام رستے سے ہٹ کے آیا ہوں
عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے
عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر
عشق میں تیرے جان زار حیف ہے مفت میں چلی
غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا
قسمت اپنی ایسی کچی نکلی ہے
کبھی جو اس کی تمنا ذرا بپھر جائے
کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہے
کسی گوشے میں دنیا کے مکیں ہوتے ہوئے بھی
کیسا منظر گزرنے والا تھا
کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کر
گر دل میں کر کے سیر دل داغدار دیکھ
گلوں پر صاف دھوکا ہو گیا رنگیں کٹوری کا
لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے
لوٹے مزے جو ہم نے تمہارے اگال کے
ماضی کے جب زخم ابھرنے لگتے ہیں
مثال مشک زباں سے مری فسانہ گیا
مرکز حرف تکلم تھا بیاں تک نہ ہوا
مرے وجود کی گہرائیوں میں رہتا ہے
ملتا ہے قید غم میں بھی لطف فضاۓ باغ
میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا
نہ بخشا گل کو بھی دست قضا نے
نہ کارواں کا ہمارے کوئی نشان رہا
نہ ہو ٹھکانہ کوئی جس کا تیرے گھر کے سوا
نہتے آدمی پہ بڑھ کے خنجر تان لیتی ہے
ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچا
ہر ایک لمحۂ غم بحر بیکراں کی طرح
ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں
ہم تو ہوں دل سے دور رہیں پاس اور لوگ
ہم زیست کی موجوں سے کنارا نہیں کرتے
ہمیں خبر بھی نہیں یار کھینچتا ہے کوئی
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 113 items