تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
آ گماں سے گزر کے دیکھیں گے
اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی
اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں
اب تو آنکھ سے اتنا جادو کر لیتا ہوں
اب سرگزشت ہجر سنانے بھی آئے گا
اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی
آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا
ابتدا تھی نہ انتہا کچھ دیر
ابھی تک چشم قاتل سے پشیمانی نہیں جاتی
آپ کو اپنا بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے
اپنا چھوڑا ہوا گھر یاد آیا
اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
اپنی آشفتہ طبیعت کا مزہ لیتا ہوں
اپنے افکار و انداز نیا دیتا ہوں
اپنی بھیگی ہوئی پلکوں پہ سجا لو مجھ کو
اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم
اپنے ہی گھر کے سامنے ہوں بت بنا ہوا
اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں
آتش بجاں ہیں شدت سوز نہاں سے ہم
آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنے
آتش ہجر کو اشکوں سے بجھانے والے
اجالا چھن رہا ہے روشنی تقسیم ہوتی ہے
احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا
آخری ہچکی لے گا کون
ادائے حسن کی حسن ادا کی بات ہوتی ہے
آدھا جسم سلگتا آدھا جل تھل ہے
ادھورے خواب کا چہرہ اداسی
آرزو ایک ندی ہو جیسے
آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے
ارم کے نور سے تیرہ مکاں جلائے گئے
اس انکسار کا ادراک تجھ کو کم ہوگا
اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں
اس دل سے مرے عشق کے ارماں کو نکالو
اس دنیا میں اپنا کیا ہے
اس دور کا ہر آدمی عیار ہو گیا
اس کا جواب ملنا جہاں میں محال ہے
اس نے نگاہ لطف و کرم بار بار کی
اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں
اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں
اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے
اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی
آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں
افسردگی آزردگی پژمردگی بیکار ہے
اک عشق ناتمام ہے رسوائیاں تمام
اگر سوال وہ کرتا جواب کیا لیتا
الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں
اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہے
الم مآل اگر ہے تو پھر خوشی کیا ہے
الٰہی خیر ہو اب اپنے آشیانے کی
امید شوق ہو یا وعدۂ راحت فزا کوئی
امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیں
ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے
ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
ان ہی پیڑوں پہ کہ سایوں کا گماں رکھتے ہیں
انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا
آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک
آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئے
آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی
آنکھ کا منظر نامہ بانٹ لیا جائے
آنکھ ہے آئنہ ہے مشعل ہے
آنکھیں جہاں ہوں بند اندھیرا وہیں سے ہے
آہ یہ دور کہ جس میں لب و رخسار بکے
اہل عشق کی ہستی کیا عجیب ہستی ہے
آوازۂ خیال کہیں گونجتا ہوا
اے جنوں دشت میں دیوار کہاں سے لاؤں
اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے
اے قلندر آ تصوف میں سنور کر رقص کر
آیا ہے خیال بے وفائی
ایام صرف شام و سحر ہو کے رہ گئے
ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے (ردیف .. ن)
ایک منظر کہکشانی اک خط بر آب بھی
ایک ہے پھر بھی ہے خدا سب کا
آئینۂ خیال ترے روبرو کریں
بات بہہ جانے کی سن کر اشک برہم ہو گئے
بات یہ ہے سدا نہیں ہوتا
باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا
باغ و بستاں ہوئے ویران کہ جی جانتا ہے
باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے
باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے
بت کیا ہیں بشر کیا ہے یہ سب سلسلہ کیا ہے
بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کر
بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں
بجھائی آگ تو روشن ہوا دھواں سا کچھ
بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم
بدن کو چھو لیں ترے اور سرخ رو ہو لیں
بدن کے دوش پہ سانسوں کا مقبرہ میں ہوں
برستے روز پتھر دیکھتا ہوں
برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے
بری خبر ہے اسے مشتہر نہیں کرتے
بڑی حیرت ہے وہ زندہ ملا ہے
بڑے خلوص سے دامن پسارتا ہے کوئی
بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے
بس تری حد سے تجھے آگے رسائی نہیں دی
بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں
بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھنا
بلا سے گر رہے یہ ناشنیدہ
بلندیوں پہ زمانے ہے کیا کیا جائے
بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے