گرمیاں آ گئیں

جگن ناتھ آزاد

گرمیاں آ گئیں

جگن ناتھ آزاد

MORE BY جگن ناتھ آزاد

    ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیں

    چلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیا

    جس کو بھی چھو لیا اس کو گرما گئیں

    جھٹ پسینے کا دریا سا بہنے لگا

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا موسم گیا

    گرم پانی ہے کوئی پیے کس طرح

    کالی کالی گھٹاؤں کا موسم گیا

    اور نہ پانی پیے تو جیے کس طرح

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    دھوپ میں پاؤں مٹی پہ جو پڑ گیا

    لیجئے گھر میں باہر سے برف آ گئی

    دھوپ میں کیا رکھا آگ پر رکھ دیا

    سارے بچوں میں پیدا ہوئی کھلبلی

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    دھوپ میں گھر سے باہر نہ جائے کوئی

    برف والی کٹوری جو منہ سے لگی

    جان کر لو کا جھونکا نہ کھائے کوئی

    سچ یہ ہے جان میں جان ہی آ گئی

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    میز بھی گرم ہے کھاٹ بھی گرم ہے

    فرش بھی گرم ہے ٹاٹ بھی گرم ہے

    گرمیاں آ گئیں

    گرمیاں آ گئیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites