گمشدہ راستے

ساجدہ زیدی

گمشدہ راستے

ساجدہ زیدی

MORE BY ساجدہ زیدی

    ساعت خود گری خود شناسی

    رفاقت محبت کے وہ جاگتے قافلے

    جو مہ و سال کی گرد میں اٹ گئے تھے

    اب بھی اک گمشدہ راستے پر رواں ہیں

    ہم نوائی کے وہ رات دن

    وقت کی گہری اندھی

    گپھاؤں سے اٹھ کر

    میرے اطراف یوں جمع ہونے لگے ہیں

    جیسے مجھے مجھ سے مری بے حسی کا گلہ کر رہے ہوں

    پوچھتے ہوں

    کہ کیا موسموں کے اٹل دائرے

    سوز دل کی بھی زنجیر پا ہیں

    عمر رفتہ کے کس بیتے لمحے سے پوچھوں

    وہ بیدار راتیں

    پر اسرار شامیں

    گہر بار صبحیں

    وہ مانوس جذبوں سے سرشار باتیں

    جو پس پردۂ درد دل

    اب بھی سوئی نہیں ہیں

    وقت کے راستے پر اگر

    کھلی آنکھ کا خواب تھیں

    واہمہ تھیں

    تو دل سے افق تک

    یہ جلتی ہوئی سرخ تحریر کیوں ہے

    مآخذ:

    • Book: Aatish Zeer-e-paa (Pg. 36)
    • Author: Sajidah Zaidi
    • مطبع: Sajidah Zaidi, Aligarah (1995)
    • اشاعت: 1995

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites