یوم آزادی

جے کرشن چودھری حبیب

یوم آزادی

جے کرشن چودھری حبیب

MORE BY جے کرشن چودھری حبیب

    چمن میں ناز سے اٹھکھیلیاں کرتی بہار آئی

    گلوں کا پیرہن پہنے وہ جان انتظار آئی

    چمن والے سبھی فرط مسرت سے پکار اٹھے

    بہار آئی بہار آئی بہار آئی بہار آئی

    کہیں کلیوں کو چھیڑا ہے کہیں پھولوں کو چوما ہے

    گلے مل مل کے پتوں سے وہ یوں روٹھی بہار آئی

    نصیبہ جاگ اٹھا پھر سبھی اہل گلستاں کا

    دلوں کا داغ دھو دھو کر وہ بار غم اتار آئی

    نئی پھر زندگی آئی نیا دل میں سرور آیا

    نئے سپنے نئے ارماں نئی آشا ابھار آئی

    کھلا ہے میکدے کا در اور اذن عام ہے سب کو

    وہاں پر آج رندوں کی قطار اندر قطار آئی

    گئے گلشن پہ غیروں کے تو موج رنگ و بو بن کر

    ہر اک گلشن سے ہم کو بھی ندائے خوش گوار آئی

    نگاہ بد سے دیکھا ہے کسی نے گر گلستاں کو

    تو گلچی کی ہر اک سازش ہمیں کو سازگار آئی

    جنہوں نے اس چمن کو خون اور اشکوں سے سینچا تھا

    بہار آئی تو یاد ان کی ہم کو بار بار آئی

    نہ مالی ہو کبھی غافل نہ ان بن اہل گلشن میں

    تبھی سمجھیں گے ہم یاروں حقیقت میں بہار آئی

    صدا اپنے چمن میں دور دورہ ہو بہاروں کا

    حبیبؔ اپنی زباں پر یہ دعا بے اختیار آئی

    مآخذ:

    • کتاب : نغمۂ زندگی (Pg. 85)
    • Author : جے کرشن چودھری حبیب
    • مطبع : جے کرشن چودھری حبیب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY