بہار جاں فزا ہے یار کا خط

محسن خان محسن

بہار جاں فزا ہے یار کا خط

محسن خان محسن

MORE BY محسن خان محسن

    بہار جاں فزا ہے یار کا خط

    بنا تار نظر رخسار کا خط

    ہوا پارہ دل خود کار کا خط

    نہ آیا پر بوا خونخوار کا خط

    سرور آرا نہیں رخسار کا خط

    پڑھا جاتا نہیں مے خوار کا خط

    کسی کٹنی کی بدکاری کا شر ہے

    شرارت سے ہے پر بد کار کا خط

    بہا دل خون ہو ہو کر نہ آیا

    مہینہ ہو گیا سرکار کا خط

    بگاڑا نقش الفت بد گہر نے

    دکھا کر گوہر مردار کا خط

    بوا صد حیف ہے پیارے نے مجھ کو

    نہ لکھا ایک دن بھی پیار کا خط

    ہو خوش خبری تجھے اے بلبل دل

    صبا لائی گل گلزار کا خط

    بتا دیتے ہیں سرخی دیکھ کر ہم

    کہ ہے یہ کسبئ بدکار کا خط

    اڑایا تیر سا شوق نظر نے

    کسی کے طالب دیدار کا خط

    چڑھا بیگم کو ایسا پیار کا جن

    گری وہ دیکھتے ہی یار کا خط

    بوا انکار میں اقرار کیسا

    خط تقدیر ہے انکار کا خط

    دکھاتی کیوں نہ بیگم سب کو باجی

    جو ہوتا طالع بیدار کا خط

    ابھی شکوہ نہ کر پائی تھی عنقاؔ

    کہ لایا ڈاکیہ سرکار کا خط

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY