گئی تھی دیکھنے باجی میں سورج کنڈ کا میلا

میر یار علی جان

گئی تھی دیکھنے باجی میں سورج کنڈ کا میلا

میر یار علی جان

MORE BYمیر یار علی جان

    گئی تھی دیکھنے باجی میں سورج کنڈ کا میلا

    بچی ہوں پستے پستے مردوؤں کا یہ ہوا ریلا

    لگے دھکے پہ دھکے ایسے انگیا ہو گئی پرزے

    مری پتھر کی چھاتی تھی ستم میں نے جو یہ جھیلا

    اجی پتھر پڑیں ایسی ہنسی پر نیکی خانم کی

    لگا ہے اونہی کیسا آ کے میری آنکھ میں ڈھیلا

    فتح خاں نام ہے اس کا وہ ہے دکھنی سواروں میں

    اسی پر میں ہوں مرتی اے بوا باندھے ہے جو سیلا

    مجھے کسبی سمجھ کر گھورتا تھا مجھ کو میلے میں

    مہینوں بائی جی لڑکا مری گودی میں جو کھیلا

    سخاوت کا پتہ کوسوں تلک باجی نہیں ملتا

    ہوا حاتم بھی کیا جا کے نگوڑے سوم کا چھیلا

    کسی نے آج کل مجھ کو دیا جو ایک بھی پیسہ

    میں سمجھی مارا حاتم نے یہ سر میں سوم کے ڈھیلا

    ہمیشہ سے نہیں کچھ مرد کی رنڈی کو خواہش ہے

    مری نارنگیوں سے آپ کا بہتر نہیں کیلا

    ترے صدقے میں میں نے جانؔ صاحب آن کر دیکھا

    سنا کرتی تھی برسوں سے میں سورج کنڈ کا میلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY