میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہے

رنگیں سعادت یار خاں

میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہے

رنگیں سعادت یار خاں

MORE BYرنگیں سعادت یار خاں

    میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہے

    میں نے سمجھ لیا تو دوگانا گھنور ہے

    اتنا بڑا ہے منہ اک آتوں کی ناک پر

    جتنی بڑی ددا مری انگلی کی پور ہے

    روئے ذرا جو دادا تو دائی ہو بے قرار

    دائی ہے مورنی تو مرا دادا مور ہے

    منہ ڈھانپ کر نہ رو یہ چھلوری نہیں موئی

    اے کوکا تیری انگلی کی پکی یہ پور ہے

    ایسی گلے میں جالی کی کرتی ہے دائی کے

    جیسی بری پڑی مری میانی کی طور ہے

    ہے میرا چلنا پھرنا دوگانا کے اختیار

    یہ جان لو کہ میں ہوں چکئی وہ ڈور ہے

    صدقے زناخی میرے میں قربان اس کی ہوں

    ہم میں چکئی ایک ہے اور ایک ڈور ہے

    شاید کہ ہو گیا ترا میٹھا برس شروع

    کوکا کچھ ان دنوں تری چاہت کا شور ہے

    تیری قسم گنواری اسے جانتی ہوں میں

    لونڈی کو رنگیںؔ جو کوئی کہتی بندور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY