aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "monster"
ہم مچھیروں سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ عفریت ہےتم نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں
جی کرتا ہے بھالو بندر نام رکھیںکون سی وحشت ہم انسان نہیں کرتے
نہ مچا شور امنڈتے ہوئے دریا میرےورنہ عفریت سمندر کے یہ کھا لیں گے تجھے
خوف کا عفریت سانسیں لے رہا تھا دشت میںرات کے چہرے پہ سناٹے کی دہشت چھائی تھی
ہجر میں اس کے یہ وحشت ہو گئیاپنے سائے سے بھی نفرت ہو گئی
عقب میں حادثۂ صبح و شام کے عفریتجلو میں گردش ایام کے نقیب چلے
عفریت خانہ سا ہوا جز گھر ترے پریرہتا ہے ڈر سا اب در و دیوار دیکھ کر
زندہ ہے بھوک آج بھی عفریت کی طرحتیر و تفنگ و لشکر و خنجر تمام شد
جسم پر ہے کون سے عفریت کا سایہ سواربھاگتا ہے سر سے دھڑ جیسے کہ سر کچھ بھی نہیں
کوئی عفریت گزرا ہے ادھر سےیہاں لاشیں تو ہیں قاتل نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books