aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "title"
غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیزمیرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا
ہر مسرت غم دیروز کا عنوان بنیوقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
عشق میں بندہ مر بھی سکتا ہے میں نےدل کی دستاویز میں لکھا دیکھا ہے
یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دیناخطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ
انعام ہو خطاب ہو ویسے ملے کہاںجب تک سفارشوں کو اکٹھا کیا نہ جائے
کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سےوہ ساری باتیں لگاؤ کی سی وہ سارے عنواں وصال کے سے
آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ
یہ ہجوم شہر ستمگراں نہ سنے گا تیری صدا کبھیمری حسرتوں کو سخن سنا مری خواہشوں سے خطاب کر
سبھی گناہ میں ہنس کر قبول کر لوں گافقیہ شہر کا تجھ کو خطاب مل جائے
ہے فسانہ عشق کا ڈوبا ہے ساحل اشک میںمیرے مضموں کا یہ عنواں تلخیاں ہی ٹھیک ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books