aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",O9kE"
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگاآسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کیدل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی
نازکی اس کے لب کی کیا کہئےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیںبنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
آرزؤں اور امیدوں کے ناکام ہونے کے بعد ان کی حسرت ہی بچتی ہے ۔ حسرت دکھ ، مایوسی ،افسوس اور احساس محرومی سے ملی جلی ایک کیفیت ہے اور ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں اس کیفیت سے گزرتے ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں حسرت کی بیشتر صورتیں عشق میں ناکامی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس حسرت بھرے بیانیے کی اداسی کو محسوس کیجئے ۔
وہم ایک ذہنی کیفیت ہے اور خیال وفکر کا ایک رویہ ہے جسے یقین کی متضاد کیفیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ انسان مسلسل زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں یقین ووہم کے درمیان پھنسا ہوتا ہے ۔ خیال وفکر کے یہ وہ علاقے ہیں جن سے واسطہ تو ہم سب کا ہے لیکن ہم انہیں لفظ کی کوئی صورت نہیں دے پاتے ۔ یہ شاعری پڑھئے اور ان لفظوں میں باریک ونامعلوم سے احساسات کی جلوہ گری دیکھئے ۔
راز کو چھپانے اور بالآخر اس کے آشکار ہوجانے کے درمیان کی جن کیفیتوں کو شعرا نے موضوع بنایا ہے وہ بہت دلچسپ اور بہت نازک ہیں ۔ یہ شاعری ہمیں فن کار کے تخیل کی باریکیوں کا قائل بھی کرتی ہے اور کلاسیکی شاعری میں عاشق کی شخصیت کے تصور سے متعارف بھی کراتی ہے۔
ऊँचे اُونچے
اون٘چا (رک) کی جمع یا حالت مغیرہ اور حسب ذیل ترکیبات میں مستعمل ہے.
ہندی
once once
ایک دفعہ
ace ace
اَحْسَن
ice ice
بَرْف
سرسید احمد خاں اور ان کے نامور رفقاء
سید عبداللہ
تنقید
اردو ناول کا سماجی اور سیاسی مطالعہ
نگینہ جبیں
ناول تنقید
حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی
نامعلوم مصنف
سوانح حیات
کہاوتیں اور ان کے حکایتی وتلمیحی پس منظر
شریف احمد قریشی
کہاوت / محاورہ / ضرب المثل
سرسید اور ان کے کارنامے
نور الحسن نقوی
تہذیب اور اس کے ہیجانات
سگمنڈ فرائڈ
فلسفہ
سہیل عظیم آبادی اور ان کے افسانے
وہاب اشرفی
مرتبہ
برمحل اشعار اور ان کے ماخذ
خلیق الزماں نصرت
انتخاب
حلال و حرام پرندے اور ان کے طبی فوائد
سلیم احمد
طب
انتظار حسین اور ان کے افسانے
گوپی چند نارنگ
افسانہ تنقید
جڑی بوٹیاں اور ان کے عجیب و غریب فوائد
پنڈت کرشن کنور دت
آیوروید
جدید افسانہ اور اس کے مسائل
وارث علوی
اسلامی تہذیب
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
سرسید احمد خاں اوران کے نامور رفقا کی نثر کا فکری اورفنی جائزہ
اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگاوہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتامگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا
دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤںوہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے
اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنےبات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سواحسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا
تم اس کے پاس ہو جس کو تمہاری چاہ نہ تھیکہاں پہ پیاس تھی دریا کہاں بنایا گیا
کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جاناگھروندے بنانا بنا کے مٹانا
اک روز کھیل کھیل میں ہم اس کے ہو گئےاور پھر تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے
بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتاوہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کاامید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books