aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",apOI"
آفرین فہیم آفی
born.1998
شاعر
عافی قادری
born.2004
محمد عوفی
مصنف
غلام حسین داد عفی عنہ
مدیر
محمد یعقوب علی عفی
عبدالحمید عفی عنہ
ناشر
محمد میاں عفی
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیںہم غریبوں کی آن بان میں کیا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
وہ اپنی راہ چل پڑیمیں اپنی راہ چل دیا
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوستسب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
وفا پر شاعری بھی زیادہ تر بے وفائی کی ہی صورتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ وفادارعاشق کے علاوہ اور ہے کون ۔ اور یہ وفادار کردار ہر طرف سے بے وفائی کا نشانہ بنتا ہے ۔ یہ شاعری ہم کو وفاداری کی ترغیب بھی دیتی ہے اور بے وفائی کے دکھ جھیلنے والوں کے زخمی احساسات سے واقف بھی کراتی ہے ۔
अपीاَپی
خود ، خود ہی ، اپنے آپ
अनीاَنی
سنسکرت
برچھی، بلم ، تیر یا کانٹے وغیرہ کی نوک، سنان، بھال
अपनीاَپْنی
اپنا کی تانیت
अपनी सीاَپنی سی
فارسی
مقدور بھر، بقدر وسعت، تا بہ امکان، اپنی حد تک
مطبخ یوسفی
دستر خوان
اپنی شخصیت کو پرکشش بنائیں
ڈیل گارنیگی
اپنی تلاش میں
کلیم الدین احمد
خود نوشت
سعادت حسن منٹو اپنی تخلیقات کی روشنی میں
محمد محسن
تنقید
مومن قوم اپنی تاریخ کے آئینے میں
محمد ڈینڈرولوی
اپنی نگریا
ممتاز شیریں
خواتین کی تحریریں
اپنی آٓنکھ اپنی دید
خواجہ حسن نظامی
انسان اپنی تلاش میں
رولو مے
سر سید کی کہانی ان کی اپنی زبانی
ضیاء الدین لاہوری
اپنی محفل اپنے دوست
جگن ناتھ آزاد
خاکے/ قلمی چہرے
نیرنگی بخت
وزیر سلطان بیگم جالندھری
اپنی بیتی
اشفاق محمد خاں
اپنی تصویر
اظہر عنایتی
غزل
باپ کے خطوط اپنی بیٹی کے نام جن میں سیرت فاطمۃ الزہرا بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ طرز خطوط پیش کی گئی ہے
خواجہ معین الدین
خطوط
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
خوش رہے تو کہ زندگی اپنیعمر بھر کی امیدواری ہے
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
اس طرح اپنی خامشی گونجیگویا ہر سمت سے جواب آئے
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھاتم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنیتو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصےاپنی کہو اب تم کیسے ہو
ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئےہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books