aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "دم"
دم دار شاہ
شاعر
بک سینٹر دم ٹم کر روڈ ممبئی
ناشر
کمار پاشی
1935 - 1992
دل شاہجہاں پوری
1875 - 1959
صابر دت
1938 - 2000
دل ایوبی
born.1929
رتن ناتھ سرشار
1846 - 1903
عبدالرزاق دل
born.1943
دل سکندرپوری
born.1993
اجیت کمار دل
خواجہ دل محمد
1887 - 1961
پنڈت کرشن کنور دت
مصنف
فضا جالندھری
1905 - 1968
دل لکھنوی
1916 - 1980
دت بھارتی
1925 - 1992
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دمگلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
نوجوان افسانہ نگاروں کے دس بہترین افسانوی مجموعے یہاں پڑھیں۔ اس صفحہ پر نوجوان افسانہ نگاروں کے بہترین افسانوی مجموعے دستیاب ہیں، جن کو ریختہ نے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
اردو کے کئی ادیبوں اور شاعروں نے مرزا غالب کے اشعار سے متاثر ہو کر اپنی کتابوں کے نام رکھے ہیں۔ ان کتابوں کے موضوعات مختلف ہیں، لیکن عنوانات غالب کے اشعار کی خوبصورتی اور مقبولیت سے متاثر ہو کر رکھے گئے ہیں۔ ایسی کتابوں کا ایک دل چسپ انتخاب ریختہ ای لائبریری میں دستیاب ہے، جہاں آپ آسانی سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔
दमدَم
سانس، نفس
क्या दमکیا دَم
کیا مجال ، اتنی ہمت نہیں.
दुमدُم
پونچھ
दम सेدَم سے
(کسی کی) وجہ سے، ذات کے باعث، پڑھنے پھونکنے سے
دما دم رواں ہے یم زندگی
خرم علی شفیق
تنقید
ہر دم رواں ہے زندگی
حمیدہ سالم
ناول
دم صبح
ضیا جالندھری
ترجمہ
ہر خواہش پہ دم نکلے
بختیار احمد
امین کا دم واپسیں
راشدالخیری
دم کٹی لومڑی
الو کی دم فاختہ
نامعلوم مصنف
دم نیم سوز
صدیق کلیم
انتخاب
دم واپسیں
عبدالصمد
افسانہ
کلام دُم دار
شاہد احمد زماں
مجموعہ
دم کہو یا پونچھ
معلومات عامہ
دم باز دم ساز
انتصار حسین
دم چار یار
علی حسین چریاکوٹی
دم بخود
محمد فاروق نشتر
طنز و مزاح
شاعری
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتناوہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوںمر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مراسخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیںورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہننہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے
پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دمبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books