aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "محسوس"
خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاںمیں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہےمجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سومیں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کاجو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ہمارا یہ انتخاب عاشق کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
ना-महसूसنا مَحسُوس
جو محسوس نہ ہو، جس کی حس نہ ہوسکے، غیر محسوس
हाजत महसूस होनाحاجَت مَحسُوس ہونا
feel the call of nature
नब्ज़ महसूस न होनाنَبْض مَحسُوس نَہ ہونا
نبض کی حرکت کا پتا نہ چلنا ۔
اگر محسوس کرو
خواتین کی تحریریں
میں محسوس کرتا ہوں سوچتا ہوں
احسن علی خاں
محسوس کرو مجھ کو
ستنام سنگھ خمار
محبوس کنشت
منشی محمد احسن
مل کے ہر شخص سے ہوا محسوسمجھ سے یہ شخص مل چکا ہے کہیں
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجودمحسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا
’’کلونت! میری جان۔۔۔ میں تمہیں نہیں بتا سکتا، میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔؟ انسان کڑی یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔۔۔ شہر میں لوٹ مچی تو سب کی طرح میں نے بھی اس میں حصہ لیا۔۔۔ گہنے پاتے اور روپے پیسے جو بھی ہاتھ لگے وہ میں نے تمہیں دے دیے۔۔۔...
ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوسکہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں
پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوالمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
آٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سکینہ کی دلجوئی کی۔ اسے کھانا کھلایا۔ دودھ پلایا اور لاری میں بٹھا دیا۔ ایک نے اپنا کو ٹ اتار کر اسے دے دیا۔ کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کررہی تھی۔ اور بار بار بانھوں سے اپنے سینے...
سلطانہ نے کانوں کے لیے بُندے خریدے۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں بھی بنوالیں۔ دس پندرہ اچھی اچھی ساڑیاں بھی جمع کرلیں، گھرمیں فرنیچر وغیرہ بھی آگیا۔ قصہ مختصر یہ کہ انبالہ چھاؤنی میں وہ بڑی خوش حال تھی مگر ایکا ایکی نہ جانے خدا بخش کے دل میں...
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books