Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیدار پر ۲۰ بہترین اشعار

ہمارا یہ انتخاب عاشق

کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم

چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت

اسعد بدایونی

میری آنکھیں اور دیدار آپ کا

یا قیامت آ گئی یا خواب ہے

آسی غازی پوری

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات

جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

ظفر اقبال

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔

علامہ اقبال

جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتی

تو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی

انور شعور

دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سے

تاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے

جنید حزیں لاری

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا

مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

زبیر رضوی

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر

دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

آزاد انصاری

سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی

مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

جگر مراد آبادی

عاشق کو دیکھتے ہیں دوپٹے کو تان کر

دیتے ہیں ہم کو شربت دیدار چھان کر

میر انیس

کیسی عجیب شرط ہے دیدار کے لیے

آنکھیں جو بند ہوں تو وہ جلوہ دکھائی دے

کرشن بہاری نور

اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں

مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے

غلام مرتضی راہی

ترا دیدار ہو حسرت بہت ہے

چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

ساجد پریمی

پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی

شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا

اسرار الحق مجاز

مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے

کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اس خبر پر بے اختیار جذباتی ہو جاتا ہے کہ جس دیدار کے لیے عمر بھر تڑپا، وہ کبھی عام ہو جائے گا۔ “جی کا آنکھوں میں آنا” آنسوؤں اور دل کے بھر آنے کا استعارہ ہے۔ مرکزی کیفیت محرومی سے امید تک کا سفر ہے: دوری کی سختی کے مقابلے میں وصال کی توقع۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اس خبر پر بے اختیار جذباتی ہو جاتا ہے کہ جس دیدار کے لیے عمر بھر تڑپا، وہ کبھی عام ہو جائے گا۔ “جی کا آنکھوں میں آنا” آنسوؤں اور دل کے بھر آنے کا استعارہ ہے۔ مرکزی کیفیت محرومی سے امید تک کا سفر ہے: دوری کی سختی کے مقابلے میں وصال کی توقع۔

میر تقی میر

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

Interpretation: Rekhta AI

میر تقی میر نے آنکھ کو کاسۂ گدائی بنا کر طلبِ دیدار کی کیفیت دکھائی ہے، اور نرگس کی کاسہ نما صورت اس استعارے کو اور گہرا کرتی ہے۔ یہاں دیدار کوئی حق نہیں بلکہ خیرات کی طرح مانگا گیا ہے۔ جذبہ عاجزی، بے بسی اور شدید آرزو میں ڈوبا ہوا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

میر تقی میر نے آنکھ کو کاسۂ گدائی بنا کر طلبِ دیدار کی کیفیت دکھائی ہے، اور نرگس کی کاسہ نما صورت اس استعارے کو اور گہرا کرتی ہے۔ یہاں دیدار کوئی حق نہیں بلکہ خیرات کی طرح مانگا گیا ہے۔ جذبہ عاجزی، بے بسی اور شدید آرزو میں ڈوبا ہوا ہے۔

میر تقی میر

مجھے کو محرومئ نظارہ قبول

آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

خمار بارہ بنکوی

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

اختر علی اختر

ترا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں

سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں
بولیے