Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لب پر ۲۰ بہترین اشعار

محبوب کے لبوں کی تعریف

وتحسین اور ان سے شکوہ شکایت شاعری میں عام ہے ۔ لبوں کی خوبصورتی اور ان کی نازکی کے مضمون کو شاعروں نے نئے نئے دڈھنگ سے باندھا ہے ۔ لبوں کے شعری بیان میں ایک پہلو یہ بھی رہا ہے کہ ان پر ایک گہری چپ پڑی ہوئی ہے ، وہ ہلتے نہیں عاشق سے بات نہیں کرتے ۔ یہ لب کہیں گلاب کی پنکھڑی کی طرح نازک ہیں تو کہیں ان سے پھول جھڑتے ہیں ۔اس مضمون میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

اس کے ہونٹوں کی نازکی بیان کرنا مشکل ہے۔

وہ گلاب کی ایک پنکھڑی جیسے نرم ہیں۔

اس کے ہونٹوں کی نازکی بیان کرنا مشکل ہے۔

وہ گلاب کی ایک پنکھڑی جیسے نرم ہیں۔

میر تقی میر

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

تمہارے ہونٹ اس قدر میٹھے ہیں کہ میرا دشمن (رقیب)،

تمہارے منہ سے برا بھلا سن کر بھی بد مزہ نہیں ہوا۔

تمہارے ہونٹ اس قدر میٹھے ہیں کہ میرا دشمن (رقیب)،

تمہارے منہ سے برا بھلا سن کر بھی بد مزہ نہیں ہوا۔

مرزا غالب

شوق ہے اس دل درندہ کو

آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا

جون ایلیا

سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا

کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی

احمد فراز

صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں

خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ

انور شعور

ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں

ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں

فرحت احساس

ایک دم اس کے ہونٹ چوم لیے

یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی

ناصر کاظمی

مل گئے تھے ایک بار اس کے جو میرے لب سے لب

عمر بھر ہونٹوں پہ اپنے میں زباں پھیرا کیا

جرأت قلندر بخش

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

خواجہ میر درد

خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا

کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

ظفر اقبال

ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا

جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی

کاوش بدری

مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ

نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے

انور شعور

ترے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی

ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں

آغا نثار

جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ

کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

مصطفیٰ خاں شیفتہ

آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار

لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر

جلیل مانک پوری

لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے

کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

آسی غازی پوری

دور سے یوں دیا مجھے بوسہ

ہونٹ کی ہونٹ کو خبر نہ ہوئی

احمد حسین مائل

ہزار بار نگاہوں سے چوم کر دیکھا

لبوں پہ اس کے وہ پہلی سی اب مٹھاس نہیں

اسلم آزاد

روبرو کر کے کبھی اپنے مہکتے سرخ ہونٹ

ایک دو پل کے لیے گلدان کر دے گا مجھے

ظفر اقبال

بہ وقت بوسۂ لب کاش یہ دل کامراں ہوتا

زباں اس بد زباں کی منہ میں اور میں زباں ہوتا

عبدالرحمان احسان دہلوی
بولیے