Farhat Ehsas's Photo'

فرحت احساس

1952 | دلی, ہندوستان

ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں

ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں

10.82K
Favorite

باعتبار

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں

وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں

ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں

تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات

مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

ہمارا زندہ رہنا اور مرنا ایک جیسا ہے

ہم اپنے یوم پیدائش کو بھی برسی سمجھتے ہیں

اندر کے حادثوں پہ کسی کی نظر نہیں

ہم مر چکے ہیں اور ہمیں اس کی خبر نہیں

عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر

جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے

کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی

ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

وہ عقل مند کبھی جوش میں نہیں آتا

گلے تو لگتا ہے آغوش میں نہیں آتا

بڑا وسیع ہے اس کے جمال کا منظر

وہ آئینے میں تو بس مختصر سا رہتا ہے

دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے

اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ

تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں

کیا بدن ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں آنکھوں میں

بس یہی دیکھتا رہتا ہوں کہ اب کیا ہوگا

اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں

اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے

شستہ زباں شگفتہ بیاں ہونٹھ گلفشاں

ساری ہیں تجھ میں خوبیاں اردو زبان کی

پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے

ہم چارہ گر سے ملنے بیمار ہو کے نکلے

مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے

تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

اس سے ملنے کے لئے جائے تو کیا جائے کوئی

اس نے دروازے پہ آئینہ لگا رکھا ہے

پھر سوچ کے یہ صبر کیا اہل ہوس نے

بس ایک مہینہ ہی تو رمضان رہے گا

یہ شہر وہ ہے کہ کوئی خوشی تو کیا دیتا

کسی نے دل بھی دکھایا نہیں بہت دن سے

ایک بار اس نے بلایا تھا تو مصروف تھا میں

جیتے جی پھر کبھی باری ہی نہیں آئی مری

اسے خبر تھی کہ ہم وصال اور ہجر اک ساتھ چاہتے ہیں

تو اس نے آدھا اجاڑ رکھا ہے اور آدھا بنا دیا ہے

فرار ہو گئی ہوتی کبھی کی روح مری

بس ایک جسم کا احسان روک لیتا ہے

قصۂ آدم میں ایک اور ہی وحدت پیدا کر لی ہے

میں نے اپنے اندر اپنی عورت پیدا کر لی ہے

جنگلوں کو کاٹ کر کیسا غضب ہم نے کیا

شہر جیسا ایک آدم خور پیدا کر لیا

محبت پھول بننے پر لگی تھی

پلٹ کر پھر کلی کر لی ہے میں نے

یہ دھڑکتا ہوا دل اس کے حوالے کر دوں

ایک بھی شخص اگر شہر میں زندہ مل جائے

کس کی ہے یہ تصویر جو بنتی نہیں مجھ سے

میں کس کا تقاضا ہوں کہ پورا نہیں ہوتا

جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے

کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں

سخت تکلیف اٹھائی ہے تجھے جاننے میں

اس لئے اب تجھے آرام سے پہچانتے ہیں

میں جب کبھی اس سے پوچھتا ہوں کہ یار مرہم کہاں ہے میرا

تو وقت کہتا ہے مسکرا کر جناب تیار ہو رہا ہے

جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج

خود کو بحال کرنا ہے کھونا نہیں ہے آج

ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے

نہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے

آنکھ بھر دیکھ لو یہ ویرانہ

آج کل میں یہ شہر ہوتا ہے

اسے بچوں کے ہاتھوں سے اٹھاؤ

یہ دنیا اس قدر بھاری نہیں ہے

اب دیکھتا ہوں میں تو وہ اسباب ہی نہیں

لگتا ہے راستے میں کہیں کھل گیا بدن

مٹی کی یہ دیوار کہیں ٹوٹ نہ جائے

روکو کہ مرے خون کی رفتار بہت ہے

یہ تیرا میرا جھگڑا ہے دنیا کو بیچ میں کیوں ڈالیں

گھر کے اندر کی باتوں پر غیروں کو گواہ نہیں کرتے

بے بدن روح بنے پھرتے رہوگے کب تک

جاؤ چپکے سے کسی جسم میں داخل ہو جاؤ

سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری

جسم یار آ کہ بچاری کو سہارا مل جائے

یہ بے کنار بدن کون پار کر پایا

بہے چلے گئے سب لوگ اس روانی میں

دو الگ لفظ نہیں ہجر و وصال

ایک میں ایک کی گویائی ہے

آنکھوں کی پیالیوں میں بارش مچی ہوئی ہے

صحرا میں کوئی منظر شاداب آ رہا ہے

مجھے یقیں تو بہت تھا مگر غلط نکلا

کہ آبلہ کبھی پاپوش میں نہیں آتا

عشق میں پینے کا پانی بس آنکھ کا پانی

کھانے میں بس پتھر کھائے جا سکتے تھے