Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

٢٠ مشہور دل شاعری

دل شاعری کے اس انتخاب

کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

تمہارا دل جذبات اور وفا میں میرے دل جیسا نہیں ہو سکتا۔

وہ دل شیشے جیسا نازک نہیں، اور یہ دل پتھر جیسا سخت نہیں ہو سکتا۔

تمہارا دل جذبات اور وفا میں میرے دل جیسا نہیں ہو سکتا۔

وہ دل شیشے جیسا نازک نہیں، اور یہ دل پتھر جیسا سخت نہیں ہو سکتا۔

داغؔ دہلوی

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

احمد فراز

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

یہ اچھا ہے کہ دل کے ساتھ عقل نگہبان بن کر رہے۔

مگر کبھی کبھی دل کو اکیلا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔

یہ اچھا ہے کہ دل کے ساتھ عقل نگہبان بن کر رہے۔

مگر کبھی کبھی دل کو اکیلا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔

علامہ اقبال

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

جلیل مانک پوری

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جگر مراد آبادی

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

اگر دل عطا کرنا ہے تو ایسا مزاج والا دل عطا کر۔

جو غم کے وقت کو بھی خوشی اور ہمت سے گزار دے۔

اگر دل عطا کرنا ہے تو ایسا مزاج والا دل عطا کر۔

جو غم کے وقت کو بھی خوشی اور ہمت سے گزار دے۔

داغؔ دہلوی

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں، کوئی دوا بھی اثر نہ کر سکی۔

آخر اس دل کی بیماری نے بات ہی ختم کر دی، پورا کام تمام کر دیا۔

ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں، کوئی دوا بھی اثر نہ کر سکی۔

آخر اس دل کی بیماری نے بات ہی ختم کر دی، پورا کام تمام کر دیا۔

میر تقی میر

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

یہ آخر دل ہی تو ہے، کوئی پتھر یا اینٹ نہیں، پھر یہ درد سے لبریز کیوں نہ ہو؟

ہم تو ہزار بار روئیں گے، کوئی ہمیں بلاوجہ کیوں ستائے یا ٹوکے؟

یہ آخر دل ہی تو ہے، کوئی پتھر یا اینٹ نہیں، پھر یہ درد سے لبریز کیوں نہ ہو؟

ہم تو ہزار بار روئیں گے، کوئی ہمیں بلاوجہ کیوں ستائے یا ٹوکے؟

مرزا غالب

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

شام ہوتے ہی میں کچھ بجھا بجھا سا اور بےرونق رہنے لگتا ہوں۔

میرا دل مفلس کے چراغ کی طرح کمزور روشنی دیتا ہے۔

شام ہوتے ہی میں کچھ بجھا بجھا سا اور بےرونق رہنے لگتا ہوں۔

میرا دل مفلس کے چراغ کی طرح کمزور روشنی دیتا ہے۔

میر تقی میر

بت خانہ توڑ ڈالیے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

حیدر علی آتش

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

دل کے اجڑ جانے کی بات کرنے کا اب کیا فائدہ ہے؟

یہ دل کا نگر تو سو بار پہلے ہی لُٹ چکا ہے۔

دل کے اجڑ جانے کی بات کرنے کا اب کیا فائدہ ہے؟

یہ دل کا نگر تو سو بار پہلے ہی لُٹ چکا ہے۔

میر تقی میر

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

نامعلوم

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

مبارک عظیم آبادی

غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیں

دل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیں

نامعلوم

دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل

ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

آسی غازی پوری

سینے میں اک کھٹک سی ہے اور بس

ہم نہیں جانتے کہ کیا ہے دل

عیش دہلوی
بولیے