Mubarak Azimabadi's Photo'

مبارک عظیم آبادی

1829 | پٹنہ, ہندوستان

بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر

بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر

4.15K
Favorite

باعتبار

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

رہنے دے اپنی بندگی زاہد

بے محبت خدا نہیں ملتا

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں

تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

مجھ کو معلوم ہے انجام محبت کیا ہے

ایک دن موت کی امید پہ جینا ہوگا

پھول کیا ڈالوگے تربت پر مری

خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی

دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے

اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے

کب وہ آئیں گے الٰہی مرے مہماں ہو کر

کون دن کون برس کون مہینہ ہوگا

اپنی سی کرو تم بھی اپنی سی کریں ہم بھی

کچھ تم نے بھی ٹھانی ہے کچھ ہم نے بھی ٹھانی ہے

تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا

پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی

آپ کا اختیار ہے سب پر

آپ پر اختیار کس کا ہے

قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا

تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا

ملو ملو نہ ملو اختیار ہے تم کو

اس آرزو کے سوا اور آرزو کیا ہے

کب ان آنکھوں کا سامنا نہ ہوا

تیر جن کا کبھی خطا نہ ہوا

ہنسی ہے دل لگی ہے قہقہے ہیں

تمہاری انجمن کا پوچھنا کیا

اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال

اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں

کسی نے برچھیاں ماریں کسی نے تیر مارے ہیں

خدا رکھے انہیں یہ سب کرم فرما ہمارے ہیں

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

یہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو

جو دل نشیں ہو کسی کے تو اس کا کیا کہنا

جگہ نصیب سے ملتی ہے دل کے گوشوں میں

کسی کی تمنا نکلتی رہی

مری آرزو ہاتھ ملتی رہی

دامن اشکوں سے تر کریں کیوں کر

راز کو مشتہر کریں کیوں کر

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس

شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ

زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر

مہربانی چارہ سازوں کی بڑھی

جب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی

محبت میں وفا کی حد جفا کی انتہا کیسی

مبارکؔ پھر نہ کہنا یہ ستم کوئی سہے کب تک

یہ غم کدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاں

غم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے

آنے میں کبھی آپ سے جلدی نہیں ہوتی

جانے میں کبھی آپ توقف نہیں کرتے

کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں جان آ جائے

اس لیے ہاتھ میں لیتے مری تصویر نہیں

خیر ساقی کی سلامت مے کدہ

جس قدر پی اتنی ہشیاری بڑھی

گئی بہار مگر اپنی بے خودی ہے وہی

سمجھ رہا ہوں کہ اب تک بہار باقی ہے

یہ تصرف ہے مبارکؔ داغ کا

کیا سے کیا اردو زباں ہوتی گئی

بے وفا عمر دغاباز جوانی نکلی

نہ یہی رہتی ہے ظالم نہ وہی رہتی ہے

مری خاک بھی اڑے گی با ادب تری گلی میں

ترے آستاں سے اونچا نہ مرا غبار ہوگا

کسی سے آج کا وعدہ کسی سے کل کا وعدہ ہے

زمانے کو لگا رکھا ہے اس امیدواری میں

اس گلی میں ہزار غم ٹوٹا

آنا جانا مگر نہیں چھوٹا

اک مرا سر کہ قدم بوسی کی حسرت اس کو

اک تری زلف کہ قدموں سے لگی رہتی ہے

دل لگاتے ہی تو کہہ دیتی ہیں آنکھیں سب کچھ

ایسے کاموں کے بھی آغاز کہیں چھپتے ہیں

کیا کہیں کیا کیا کیا تیری نگاہوں نے سلوک

دل میں آئیں دل میں ٹھہریں دل میں پیکاں ہو گئیں

تم کو سمجھائے مبارکؔ کوئی کیوں کر افسوس

تم تو رونے لگے یار اور بھی سمجھانے سے

جو قیامت کا نہیں دن وہ مرا دن کیسا

جو تڑپ کر نہ کٹی ہو وہ مری رات نہیں

نہ مانو گے نہ مانو گے ہماری

ادھر ہو جائے گی دنیا ادھر کی

کچھ اس انداز سے صیاد نے آزاد کیا

جو چلے چھٹ کے قفس سے وہ گرفتار چلے

اثر ہو یا نہ ہو واعظ بیاں میں

مگر چلتی تو ہے تیری زباں خوب

تم بھول گئے مجھ کو یوں یاد دلاتا ہوں

جو آہ نکلتی ہے وہ یاد دہانی ہے

جو ان کو چاہئے وہ کیے جا رہے ہیں وہ

جو مجھ کو چاہئے وہ کیے جا رہا ہوں میں

کل تو دیکھا تھا مبارکؔ بتکدے میں آپ کو

آج حضرت جا کے مسجد میں مسلماں ہو گئے

ادھر چٹکی وہ دل میں لے رہے ہیں

ادھر اک گدگدی سی ہو رہی ہے

دل میں آنے کے مبارکؔ ہیں ہزاروں رستے

ہم بتائیں اسے راہیں کوئی ہم سے پوچھے

اس بھری محفل میں ہم سے داور محشر نہ پوچھ

ہم کہیں گے تجھ سے اپنی داستاں سب سے الگ

میری دشواری ہے دشواری مری

میری مشکل آپ کی مشکل نہیں

جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی

بلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کی