Mubarak Azimabadi's Photo'

مبارک عظیم آبادی

1896 - 1959 | پٹنہ, ہندوستان

بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر

بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

رہنے دے اپنی بندگی زاہد

بے محبت خدا نہیں ملتا

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں

تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

مجھ کو معلوم ہے انجام محبت کیا ہے

ایک دن موت کی امید پہ جینا ہوگا

جو دل نشیں ہو کسی کے تو اس کا کیا کہنا

جگہ نصیب سے ملتی ہے دل کے گوشوں میں

پھول کیا ڈالوگے تربت پر مری

خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی

دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے

اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے

کب وہ آئیں گے الٰہی مرے مہماں ہو کر

کون دن کون برس کون مہینہ ہوگا

تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا

پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی

اپنی سی کرو تم بھی اپنی سی کریں ہم بھی

کچھ تم نے بھی ٹھانی ہے کچھ ہم نے بھی ٹھانی ہے

آپ کا اختیار ہے سب پر

آپ پر اختیار کس کا ہے

اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال

اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

یہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو

کسی نے برچھیاں ماریں کسی نے تیر مارے ہیں

خدا رکھے انہیں یہ سب کرم فرما ہمارے ہیں

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس

محبت میں وفا کی حد جفا کی انتہا کیسی

مبارکؔ پھر نہ کہنا یہ ستم کوئی سہے کب تک

یہ غم کدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاں

غم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے

مہربانی چارہ سازوں کی بڑھی

جب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی

شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ

زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر

خیر ساقی کی سلامت مے کدہ

جس قدر پی اتنی ہشیاری بڑھی