noImage

نامعلوم

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیں

دل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیں

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف

ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

جان لینی تھی صاف کہہ دیتے

کیا ضرورت تھی مسکرانے کی

عید کا چاند تم نے دیکھ لیا

چاند کی عید ہو گئی ہوگی

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے

روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیں

کس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیں

اگر وہ پوچھ لیں ہم سے تمہیں کس بات کا غم ہے

تو پھر کس بات کا غم ہے اگر وہ پوچھ لیں ہم سے

she should just inquire, what causes me this pain

were she to ask this question, no ache would then remain

she should just inquire, what causes me this pain

were she to ask this question, no ache would then remain

نشیمن پر نشیمن اس قدر تعمیر کرتا جا

کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بے زار ہو جائے

عیش کے یار تو اغیار بھی بن جاتے ہیں

دوست وہ ہیں جو برے وقت میں کام آتے ہیں

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے

تم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کر کے

شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں

دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیے

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ

بخش دینا تو تیری فطرت ہے

I keep on sinning as I do believe

it is your nature to grant reprieve

I keep on sinning as I do believe

it is your nature to grant reprieve

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن

بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو

تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا

جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

زندگی کے اداس لمحوں میں

بے وفا دوست یاد آتے ہیں

In life's sad moments one tends

to recall the faithlesness of friends

In life's sad moments one tends

to recall the faithlesness of friends

دل میں طوفان ہو گیا برپا

تم نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

یہ ہمیں ہیں کہ ترا درد چھپا کر دل میں

کام دنیا کے بہ دستور کیے جاتے ہیں

ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہم

اور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہم

A kiss is all that I aspire for

I would be guilty if I ask for more

A kiss is all that I aspire for

I would be guilty if I ask for more

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

عشق کی ہر داستاں میں ایک ہی نکتہ ملا

عشق کا ماضی ہوا کرتا ہے مستقبل نہیں

in every tale of love is a common theme to wit

love only has a past but no future's there for it

in every tale of love is a common theme to wit

love only has a past but no future's there for it

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے

رشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

اندھیری رات کو میں روز عشق سمجھا تھا

چراغ تو نے جلایا تو دل بجھا میرا

دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل

جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو

فرشتے حشر میں پوچھیں گے پاک بازوں سے

گناہ کیوں نہ کیے کیا خدا غفور نہ تھا

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے

ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

towards the creator, I was not inclined

but then I saw her, and he came to mind

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر

آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ

اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہے

مگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئے

آتا ہے یہاں سب کو بلندی سے گرانا

وہ لوگ کہاں ہیں کہ جو گرتوں کو اٹھائیں

everyone is adept at making othersfall and trip

where are they that support, others when they slip

everyone is adept at making othersfall and trip

where are they that support, others when they slip

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی

اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

عید آئی تم نہ آئے کیا مزا ہے عید کا

عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

اب تک خبر نہ تھی کہ محبت گناہ ہے

اب جان کر گناہ کیے جا رہا ہوں میں

that love was deemed sinful, was yet unknown to me

Now from hereon I will go on sinning khowingly

that love was deemed sinful, was yet unknown to me

Now from hereon I will go on sinning khowingly

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو

جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو

تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی

عبادت کریں آج مخمور ہو کر

tis the call to prayer, hasten, pour me wine

today inebriated, I'll worship the divine

tis the call to prayer, hasten, pour me wine

today inebriated, I'll worship the divine

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

دوری ہوئی تو اس کے قریں اور ہم ہوئے

یہ کیسے فاصلے تھے جو بڑھنے سے کم ہوئے

the further that we went apart, closer we came to be

as these distances increased so did proximity

the further that we went apart, closer we came to be

as these distances increased so did proximity