تمام
تعارف
غزل21
نظم10
شعر560
مزاحیہ1
ای-کتاب94
تصویری شاعری 30
آڈیو 1
ویڈیو 984
قطعہ7
قصہ59
بچوں کی کہانی78
لوری1
گیت2
پہیلی37
فلمی گیت1
نامعلوم کے ویڈیو
This video is playing from YouTube
ویڈیو کا زمرہ
مزاح
ویڈیو کا زمرہ
شاعری
ویڈیو کا زمرہ
Studio Videos
ویڈیو کا زمرہ
دیگر
مزاح
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
"Anam" a Nazm By Faraz Ahmad sung By: Sunil Chaudhry نامعلوم
-
Aa Kar Ke Meri Kabr Par - Bahadur Shah Zafar نامعلوم
-
Aaj phir dil ne kaha aao bhuladen yaaden نامعلوم
-
Ab ke uski aankhon mein نامعلوم
-
Ab rahiye baith ek jangal mein نامعلوم
-
Allama Iqbal Urdu & Farsi Nazam نامعلوم
-
Amazing Urdu Naat by Ghulam Muhammad Qasir نامعلوم
-
An Evening on Asrar ul Haq Majaz Birth Anniversary by Muzzafar Ali's Rumi Foundation(Lucknow Chapter) نامعلوم
-
Apne hone ka hum ehsaas jagaane aae نامعلوم
-
Apne markaz se agar door nikal jao ge نامعلوم
-
Baat Kar نامعلوم
-
Bedam Shah Warsi's 'Hamari Jaan Ho...' sung by Azalea Ray نامعلوم
-
Chalo chodo mohabbat jhoot hai نامعلوم
-
Dil Ko Jahan Bhar Ke Muhabbat Mein Gham Mile نامعلوم
-
Diwali Nazm نامعلوم
-
dushmanon ne to dushmani ki hai نامعلوم
-
Ibtedaa-e-Zindagi نامعلوم
-
Ilahi koi hawa ka نامعلوم
-
In Solidarity with Gaza - Ahmed Faraz Nazm نامعلوم
-
Is tapish ka hai mazaa dil hi ko haasil نامعلوم
-
Jab un se mile نامعلوم
-
Jo khayaal the na qayaas the نامعلوم
-
Kaee saal guzre kaee saal beete نامعلوم
-
Kamla Devi singing Fani Badayuni نامعلوم
-
Main jahaan rahoon نامعلوم
-
Maine dekha tha un dino mein use نامعلوم
-
Mansab to hamein bhi mil sakte the نامعلوم
-
Matlabi hain log yahan par, matlabi zamaana نامعلوم
-
More Jobna Ka Ubhar Papi Jobna Ka Dekho Zohrabai Ambalewali نامعلوم
-
Mughe apne zabt pe naz tha نامعلوم
-
Mujhe ab laut jane de نامعلوم
-
Mujhe maut di ke hayaat di نامعلوم
-
Na samaaton mein tapish ghule نامعلوم
-
Phir usi dasht se aa mil le milaale نامعلوم
-
Rang mausam ka haraa tha pehle نامعلوم
-
Saaye-e-Ahmed-e-Mukhtar Mubarak Bashad - Kalam-e-Bedam Shah Warsi by Ahsan & Adil Hussain Khan نامعلوم
-
shauq-e-beintiha na de jana نامعلوم
-
Shikast e zarf ko pindaar e rindana nahin kehte نامعلوم
-
Shikwa bhi jafa ka kaise karein نامعلوم
-
Shouq Se Nakami Ki Badaulat نامعلوم
-
Tere pyar ki tamanna نامعلوم
-
Teri aankhen نامعلوم
-
Tujhse milne ka nahin koi imkaan jaana نامعلوم
-
Tum naghma e mah o anjum ho نامعلوم
-
Tumhain Dekh K Yaad Aata Hai Mujhay..... Kahin Pehlay Bhe Tum Sy Mila Hu Mein نامعلوم
-
Ye to uska hi karishma hai نامعلوم
-
Yeh nigah e sharm jhuki jhuki نامعلوم
-
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے نامعلوم
-
آپ ناحق ملال کرتے ہیں نامعلوم
-
آپ کی اور اک نظر دیکھا نامعلوم
-
آپ کی اور اک نظر دیکھا نامعلوم
-
آج لب_گہر_فشاں آپ نے وا نہیں کیا نامعلوم
-
آخر ایسا کیوں ہے پاپا نامعلوم
-
آدمی پہلے تو لازم ہے کہ انسان بنے نامعلوم
-
آزاد کی رگ سخت ہے مانند_رگ_سنگ نامعلوم
-
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی نامعلوم
-
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو نامعلوم
-
آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں نامعلوم
-
آنکھوں کا ہے قصور اگر وہ عیاں نہیں نامعلوم
-
آنکھوں کے ساتھ اسے مرا ہنسنا نہیں پسند نامعلوم
-
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک نامعلوم
-
اب ایسے چاک پر کوزہ_گری ہوتی نہیں تھی نامعلوم
-
اب کے بارش میں تو یہ کار_زیاں ہونا ہی تھا نامعلوم
-
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں نامعلوم
-
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں نامعلوم
-
اپنا خاکہ لگتا ہوں نامعلوم
-
اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم نامعلوم
-
اپنی حالت کا مجھے دھیان نہیں ہوتا ہے نامعلوم
-
اپنی دھن میں رہتا ہوں نامعلوم
-
اپنی منزل کا راستہ بھیجو نامعلوم
-
اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے نامعلوم
-
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو نامعلوم
-
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں نامعلوم
-
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں_گا نامعلوم
-
اپنے مرکز سے کٹ گیا ہوں میں نامعلوم
-
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں نامعلوم
-
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام نامعلوم
-
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر نامعلوم
-
اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے نامعلوم
-
ادائے_عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں میں نامعلوم
-
اداس ہیں سب پتا نہیں گھر میں کیا ہوا ہے نامعلوم
-
ازل کے مصور سے نامعلوم
-
ازل کے مصور سے نامعلوم
-
ازل کے مصور سے نامعلوم
-
اس بھری دنیا میں کوئی بھی ہمارا نہ ہوا نامعلوم
-
اس سے پہلے کہ کہانی سے کہانی نکلے نامعلوم
-
اس نے ہم کو گمان میں رکھا نامعلوم
-
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا نامعلوم
-
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں نامعلوم
-
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے_گا نامعلوم
-
اگر ہے زندگی اک جشن تو نا_مہرباں کیوں ہے نامعلوم
-
اگرچہ مجھ کو جدائی تری گوارا نہیں نامعلوم
-
الارض_للہ نامعلوم
-
امن میں حصہ چھوڑ چکا ہوں نامعلوم
-
ان کو جو شغل_ناز سے فرصت نہ ہو سکی نامعلوم
-
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ نامعلوم
-
اور تو خیر کیا رہ گیا نامعلوم
-
اور کیا چاہیئے جینے کے لیے نامعلوم
-
اور کیا چاہیئے جینے کے لیے نامعلوم
-
اٹھو یہ منظر_شب_تاب دیکھنے کے لیے نامعلوم
-
اک غزل تو مرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے نامعلوم
-
اک کرب_مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں نامعلوم
-
اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا نامعلوم
-
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں نامعلوم
-
ایک آئینہ رو_بہ_رو ہے ابھی نامعلوم
-
ایک پت_جھڑ سا ہے لگا مجھ میں نامعلوم
-
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے نامعلوم
-
اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو نامعلوم
-
اے دوست! تری آنکھ جو نم ہے تو مجھے کیا نامعلوم
-
اے شریف انسانو نامعلوم
-
اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں نامعلوم
-
اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے نامعلوم
-
اے کوئے_یار تیرے زمانے گزر گئے نامعلوم
-
بات میری کبھی سنی ہی نہیں نامعلوم
-
بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی نامعلوم
-
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے نامعلوم
-
بد_دلی میں بے_قراری کو قرار آیا تو کیا نامعلوم
-
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں نامعلوم
-
بدن کے دیوار_و_در میں اک شے سی مر گئی ہے نامعلوم
-
برابر خواب سے چہروں کی ہجرت دیکھتے رہنا نامعلوم
-
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے نامعلوم
-
بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگی نامعلوم
-
بو نامعلوم
-
بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے نامعلوم
-
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں نامعلوم
-
بکھر ہی جاؤں_گا میں بھی ہوا اداسی ہے نامعلوم
-
بھر دو جھولی مری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں_گا خالی نامعلوم
-
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں نامعلوم
-
بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن نامعلوم
-
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں نامعلوم
-
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا نامعلوم
-
بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں نامعلوم
-
بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے نامعلوم
-
بے_وفا میں بھی سہی تجھ میں وفا بھی تو نہیں نامعلوم
-
بے_کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں نامعلوم
-
پاس اپنے اک جان ہے سائیں نامعلوم
-
پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب نامعلوم
-
پتہ پتہ کیوں ہے دل افگار اس گلزار کا نامعلوم
-
پچھلے برس تم ساتھ تھے میرے اور دسمبر تھا نامعلوم
-
پنجابی مسلمان نامعلوم
-
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی نامعلوم
-
پھر بھی اپنا دیش ہے چنگا نامعلوم
-
پھر کچھ اک دل کو بے_قراری ہے نامعلوم
-
پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئے نامعلوم
-
پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے نامعلوم
-
تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں نامعلوم
-
تجھ سے مرے خدا میں گزارش کروں تو کیا نامعلوم
-
تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا نامعلوم
-
تجھی کو جو یاں جلوہ_فرما نہ دیکھا نامعلوم
-
تجھے کیا بتاؤں میں ہم_نشیں مری زندگی کا جو حال ہے نامعلوم
-
تخلیق نامعلوم
-
تری دوستی کا کمال تھا مجھے خوف تھا نہ ملال تھا نامعلوم
-
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے نامعلوم
-
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے نامعلوم
-
ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں_گا نامعلوم
-
ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں نامعلوم
-
تشنگی نے سراب ہی لکھا نامعلوم
-
تعارف نامعلوم
-
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا نامعلوم
-
تم اپنا رنج_و_غم اپنی پریشانی مجھے دے دو نامعلوم
-
تم سے بھی اب تو جا چکا ہوں میں نامعلوم
-
تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے نامعلوم
-
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا نامعلوم
-
تمام عارف_و_عامی خودی سے بیگانہ نامعلوم
-
تمنا کے تار نامعلوم
-
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو نامعلوم
-
تمہارے ساتھ یہ قصہ کبھی کبھار کا ہے نامعلوم
-
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے نامعلوم
-
تنگ آ چکے ہیں کشمکش_زندگی سے ہم نامعلوم
-
تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے نامعلوم
-
تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے_گا نامعلوم
-
تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے_گا نامعلوم
-
تیری مرضی کے خد_و_خال میں ڈھلتا ہوا میں نامعلوم
-
تیرے آگے سرکشی دکھلاوں_گا؟ نامعلوم
-
تیرے آنے کا انتظار رہا نامعلوم
-
جام_تہی لہرایا ہم نے نامعلوم
-
جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا نامعلوم
-
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم نامعلوم
-
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا نامعلوم
-
جبیں پہ ان کی یہ بندی کا داغ کیا کہئے نامعلوم
-
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا نامعلوم
-
جستجو نامعلوم
-
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے نامعلوم
-
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا نامعلوم
-
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ_چمن میں نامعلوم
-
جل بجھا ہوں میں مگر سارا جہاں تاک میں ہے نامعلوم
-
جناب_شیخ کی ہرزہ_سرائی جاری ہے نامعلوم
-
جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے نامعلوم
-
جو بنے_گا وہی بنانا ہے نامعلوم
-
جو تیز دوڑتے تھے بہت جلد تھک گئے نامعلوم
-
جو چوزے آشیانے میں مرے ہیں نامعلوم
-
جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے نامعلوم
-
جو عالم_ایجاد میں ہے صاحب_ایجاد نامعلوم
-
جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں نامعلوم
-
جواب_شکوہ نامعلوم
-
جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں نامعلوم
-
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے نامعلوم
-
جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے نامعلوم
-
جہاں سے آ گئے ہیں اس جہاں کی یاد آتی ہے نامعلوم
-
جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے نامعلوم
-
چاند پھر تاروں کی اجلی ریز_گاری دے گیا نامعلوم
-
چلتے چلتے یہ گلی بے_جان ہوتی جائے_گی نامعلوم
-
چوٹ پھولوں کی چھڑی سے بھی نہ کیوں دل پر لگے نامعلوم
-
چھپ کے اس نے جو خود_نمائی کی نامعلوم
-
چھپتا نہیں نقاب میں جلوہ شباب کا نامعلوم
-
چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے نامعلوم
-
حالات سے خوف کھا رہا ہوں نامعلوم
-
حجاب دور تمہارا شباب کر دے_گا نامعلوم
-
حسن پر جب شباب آتا ہے نامعلوم
-
حسن پھر فتنہ_گر ہے کیا کہئے نامعلوم
-
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں نامعلوم
-
حق کی ہے گر تلاش تو یہ مان کر چلو نامعلوم
-
حقیقت_ازلی ہے رقابت_اقوام نامعلوم
-
حلقے میں رسولوں کے وہ ماہ_مدنی ہے نامعلوم
-
حيات_ابدی نامعلوم
-
حیرت ہے جنہیں میری ترقی پہ جلن بھی نامعلوم
-
حیرتوں کے سلسلے سوز_نہاں تک آ گئے نامعلوم
-
خاک اگاتی ہیں صورتیں کیا کیا نامعلوم
-
خدا نے حسن دیا تجھ کو اور جمال دیا نامعلوم
-
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے نامعلوم
-
خواب کے رنگ دل_و_جاں میں سجائے بھی گئے نامعلوم
-
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی نامعلوم
-
خود سے رشتے رہے کہاں ان کے نامعلوم
-
خودی کی تربیت نامعلوم
-
خوشامد نامعلوم
-
خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں نامعلوم
-
خون تھوکے_گی زندگی کب تک نامعلوم
-
دائرے سے نکال دے کوئی نامعلوم
-
دام_تہذیب نامعلوم
-
دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی نامعلوم
-
درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر نامعلوم
-
دریائے_اشک چشم سے جس آن بہہ گیا نامعلوم
-
دسہرا نامعلوم
-
دعا نامعلوم
-
دل پریشاں ہے کیا کیا جائے نامعلوم
-
دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں نامعلوم
-
دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو نامعلوم
-
دل خوف میں ہے عالم_فانی کو دیکھ کر نامعلوم
-
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں نامعلوم
-
دل نے اپنی زباں کا پاس کیا نامعلوم
-
دل نے کیا ہے قصد_سفر گھر سمیٹ لو نامعلوم
-
دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش نامعلوم
-
دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے نامعلوم
-
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے نامعلوم
-
دل کی ہر بات دھیان میں گزری نامعلوم
-
دل کے آنگن میں جو دیوار اٹھا لی جائے نامعلوم
-
دل کے کہنے پر چل نکلا نامعلوم
-
دل کے کہنے پر چل نکلا نامعلوم
-
دل کے کہنے پر چل نکلا نامعلوم
-
دل ہی تو ہے نہ سنگ_و_خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں نامعلوم
-
دل_برباد کو آباد کیا ہے میں نے نامعلوم
-
دل_ناداں تجھے ہوا کیا ہے نامعلوم
-
دنیا میں رہ کے دنیا میں شامل نہیں ہوں میں نامعلوم
-
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب_گار نہیں ہوں نامعلوم
-
دو ستارے نامعلوم
-
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا نامعلوم
-
دکھ کی گتھی کھولیں_گے نامعلوم
-
دھوپ میں جلتے ہیں تب سایہ بنتا ہے نامعلوم
-
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو نامعلوم
-
دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا نامعلوم
-
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا نامعلوم
-
دیکھو ابھی لہو کی اک دھار چل رہی ہے نامعلوم
-
ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرا نامعلوم
-
ذکر_شب_فراق سے وحشت اسے بھی تھی نامعلوم
-
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا نامعلوم
-
رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا نامعلوم
-
رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی نامعلوم
-
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ نامعلوم
-
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ نامعلوم
-
رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات نامعلوم
-
روبرو پھر سے اس کی آنکھیں تھیں (ردیف .. ا) نامعلوم
-
رومی بدلے شامی بدلے بدلا ہندستان نامعلوم
-
رہ_جنوں میں چلا یوں میں عمر_بھر تنہا نامعلوم
-
رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح نامعلوم
-
زحال_مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں نامعلوم
-
زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو نامعلوم
-
زخم_امید بھر گیا کب کا نامعلوم
-
زرد موسم کے اک شجر جیسی نامعلوم
-
زندگانی جب ہمیں راس آئے_گی نامعلوم
-
زندگی کے سراب بھی دیکھوں نامعلوم
-
زیست عنوان تیرے ہونے کا نامعلوم
-
سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا نامعلوم
-
سارا عالم گوش_بر_آواز ہے نامعلوم
-
ساقی نامعلوم
-
سامنے والے کو ہلکا جان کر بھاری ہیں آپ نامعلوم
-
سب سے پیارا ہے پیار کا رشتہ نامعلوم
-
ستم ہو جائے تمہید_کرم ایسا بھی ہوتا ہے نامعلوم
-
سحرش_گل کے استعارے ہیں نامعلوم
-
سر جھکاؤ_گے تو پتھر دیوتا ہو جائے_گا نامعلوم
-
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے نامعلوم
-
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں نامعلوم
-
سر_صحرا حباب بیچے ہیں نامعلوم
-
سرمایہ_داری نامعلوم
-
سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں_گا نامعلوم
-
سفر کے بعد بھی ذوق_سفر نہ رہ جائے نامعلوم
-
سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے نامعلوم
-
سلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا نامعلوم
-
سلسلہ یوں بھی روا رکھا شناسائی کا نامعلوم
-
سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر_پا رکھنا نامعلوم
-
سما سکتا نہیں پہنائے_فطرت میں مرا سودا نامعلوم
-
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں نامعلوم
-
سوچا ہے کہ اب کار_مسیحا نہ کریں_گے نامعلوم
-
سوز_غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا نامعلوم
-
سوز_غم_فراق سے دل کو بچائے کون نامعلوم
-
سہو بے_چارگی کا دکھ نامعلوم
-
سیاسی پیشوا نامعلوم
-
سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں نامعلوم
-
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے نامعلوم
-
شام اچھی ہے نہ سحر اچھی نامعلوم
-
شام تھی اور برگ_و_گل شل تھے مگر صبا بھی تھی نامعلوم
-
شام سے آج سانس بھاری ہے نامعلوم
-
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہم_راہ چلیں نامعلوم
-
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے نامعلوم
-
شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو نامعلوم
-
شمشیر میری، میری سپر کس کے پاس ہے نامعلوم
-
شوق کے دفتر دلوں میں رہ گئے نامعلوم
-
شوق_رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں نامعلوم
-
صبح نامعلوم
-
صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم نامعلوم
-
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا نامعلوم
-
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا نامعلوم
-
طفل_شیر_خوار نامعلوم
-
ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں نامعلوم
-
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی نامعلوم
-
عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے نامعلوم
-
عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا نامعلوم
-
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے نامعلوم
-
عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی نامعلوم
-
عذاب_دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے نامعلوم
-
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے نامعلوم
-
عشق چھپتا نہیں چھپانے سے نامعلوم
-
عشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی نامعلوم
-
عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا نامعلوم
-
عشق کی گم_شدہ منزلوں میں گئی نامعلوم
-
عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئے نامعلوم
-
علم اور دین نامعلوم
-
عمر گزری رہ_گزر کے آس_پاس نامعلوم
-
عیش_امید ہی سے خطرہ ہے نامعلوم
-
غم ہے بے_ماجرا کئی دن سے نامعلوم
-
غم_عاشقی سے کہہ دو رہ_عام تک نہ پہنچے نامعلوم
-
فراخ_دست کا یہ حسن_تنگ_دستی ہے نامعلوم
-
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے_گا نامعلوم
-
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ نامعلوم
-
قدم_قدم پہ تو اے راہرو قیام نہ کر نامعلوم
-
قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نامعلوم
-
قسمت_شوق آزما نہ سکے نامعلوم
-
قوت اور دین نامعلوم
-
قید میں گزرے_گی جو عمر بڑے کام کی تھی نامعلوم
-
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح نامعلوم
-
گدائی نامعلوم
-
گفتگو جب محال کی ہوگی نامعلوم
-
گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو نامعلوم
-
گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دن نامعلوم
-
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا نامعلوم
-
گماں کا ممکن۔ جو تو ہے میں ہوں نامعلوم
-
گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے نامعلوم
-
لازم ہے اپنے آپ کی امداد کچھ کروں نامعلوم
-
لاکھ تقدیر پہ روئے کوئی رونے والا نامعلوم
-
لگی ہے چوٹ جو دل میں ابھر آئی تو کیا ہوگا نامعلوم
-
لمحے لمحے کی نارسائی ہے نامعلوم
-
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں نامعلوم
-
لٹا دئیے تھے کبھی جو خزانے ڈھونڈھتے ہیں نامعلوم
-
لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے نامعلوم
-
لہو نامعلوم
-
مایوس کس لئے ہو اٹھو بات کرتے ہیں نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے ملنے شب_غم اور تو کون آئے_گا نامعلوم
-
مجھ کو تو گر کے مرنا ہے نامعلوم
-
مجھے تم شہرتوں کے درمیاں گمنام لکھ دینا نامعلوم
-
مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے نامعلوم
-
مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے نامعلوم
-
مجھے وہ کنج_تنہائی سے آخر کب نکالے_گا نامعلوم
-
مجھے کسی نے بتایا خدا ہے میرے ساتھ نامعلوم
-
محبت اور محبت کا شجر باقی رہے_گا نامعلوم
-
محبت نا_سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے نامعلوم
-
محبت کرنے والے کم نہ ہوں_گے نامعلوم
-
محبت کس سے کب ہو جائے اندازہ نہیں ہوتا نامعلوم
-
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا نامعلوم
-
مدرسہ نامعلوم
-
مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت_خانہ تھا نامعلوم
-
مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی نامعلوم
-
مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ نامعلوم
-
مرحوم کی یاد میں نامعلوم
-
مری توبہ جو ٹوٹی ہے شرارت سب فضا کی ہے نامعلوم
-
مری داستان_حسرت وہ سنا سنا کے روئے نامعلوم
-
مری داستاں مجھے ہی مرا دل سنا کے روئے نامعلوم
-
مرے دل سے دل کو ملا کر تو دیکھو نامعلوم
-
مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیں نامعلوم
-
مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا نامعلوم
-
مرے مزاج کو سورج سے جوڑتا کیوں ہے نامعلوم
-
مرے ہمدم مرے دوست! نامعلوم
-
مرے ہمدم مرے دوست! نامعلوم
-
مطمئن بیٹھا ہوں خود کو جان کر نامعلوم
-
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں_گے ہم نامعلوم
-
ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے نامعلوم
-
ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا نامعلوم
-
ملی دل کی اپنے خبر صنم تجھے دل میں جب سے بسا لیا نامعلوم
-
ملے_گا منزل_مقصود کا اسی کو سراغ نامعلوم
-
منظر شمشان ہو گیا ہے نامعلوم
-
منظر_رخصت_دل_دار بھلایا نہ گیا نامعلوم
-
میاں وہ جان کترانے لگی ہے نامعلوم
-
میری آنکھوں میں آ گئے آنسو نامعلوم
-
میری آنکھوں میں ترے پیار کا آنسو آئے نامعلوم
-
میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں نامعلوم
-
میرے جیسے بن جاؤ_گے جب عشق تمہیں ہو جائے_گا نامعلوم
-
میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں نامعلوم
-
میں اسے دیکھ رہی ہوں بڑی حیرانی سے نامعلوم
-
میں جب وجود کے حیرت_کدے سے مل رہا تھا نامعلوم
-
میں چھو سکوں تجھے میرا خیال_خام ہے کیا نامعلوم
-
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں نامعلوم
-
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے_گا نامعلوم
-
میں ہوں حیراں یہ سلسلہ کیا ہے نامعلوم
-
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے نامعلوم
-
نانک نامعلوم
-
نبوت نامعلوم
-
نظر نے کر دیا غائب دکھایا دل نے جو جلوہ (ردیف .. ا) نامعلوم
-
نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے نامعلوم
-
نگاہ خود پہ ٹکی تھی تو اور کیا دکھتا نامعلوم
-
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا نامعلوم
-
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں نامعلوم
-
نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپا نامعلوم
-
نہ تو جستجوئے_دوائے_دل نہ تو چارہ_گر کی تلاش ہے نامعلوم
-
نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے نامعلوم
-
نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا نامعلوم
-
نہ ذکر گل کا کہیں ہے نہ ماہتاب کا ہے نامعلوم
-
نہ مینار محلوں کی شوکت بچے_گی نامعلوم
-
نہ کوئی ہجر نہ کوئی وصال ہے شاید نامعلوم
-
نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا نامعلوم
-
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم نامعلوم
-
نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سے نامعلوم
-
وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا نامعلوم
-
وداع کرتا ہے دل سطوت_رگ_جاں کو نامعلوم
-
وہ بھول گیا مجھ سے برسوں کی شناسائی نامعلوم
-
وہ تو خوش_بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے_گا نامعلوم
-
وہ تو میں آگ جلانے سے میاں واقف تھا نامعلوم
-
وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں نامعلوم
-
وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی نامعلوم
-
وہ لب کہ جیسے ساغر_صہبا دکھائی دے نامعلوم
-
وہ مزا رکھتے ہیں کچھ تازہ فسانے اپنے نامعلوم
-
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا نامعلوم
-
وہ کیا زندگی جس میں جوشش نہیں نامعلوم
-
وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے نامعلوم
-
وہ ہم_سفر تھا مگر اس سے ہم_نوائی نہ تھی نامعلوم
-
وہ ہم_نشیں تھا مگر ایسے نا_شناس رہا نامعلوم
-
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت نامعلوم
-
ٹوٹتے جسم کے مہتاب بکھر جا مجھ میں نامعلوم
-
ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر نامعلوم
-
کب اس کا وصال چاہیے تھا نامعلوم
-
کب سے آدھا ہے ماہتاب مرا نامعلوم
-
کبھی پھولوں سے بہلایا گیا ہوں نامعلوم
-
کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں نامعلوم
-
کبھی چراغ کبھی راستہ بدل کر دیکھ نامعلوم
-
کبھی گوکل کبھی رادھا کبھی موہن بن کے نامعلوم
-
کبھی لگتا ہے ذرے کے برابر ہے بساط اپنی نامعلوم
-
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو نامعلوم
-
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نامعلوم
-
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی نامعلوم
-
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا نامعلوم
-
کچھ کو یہ ضد ہے کہ ہم اس کو یہیں دیکھیں_گے نامعلوم
-
کرو داغ_دل کی سدا پاسبانی نامعلوم
-
کس سے اظہار_مدعا کیجے نامعلوم
-
کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا نامعلوم
-
کس طرح پیاس کو پانی سے الگ رکھا جائے نامعلوم
-
کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم نامعلوم
-
کسی سلیم سے جب ہے کوئی خطا ہوتی نامعلوم
-
کسی سے عہد_و_پیماں کر نہ رہیو نامعلوم
-
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو نامعلوم
-
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا نامعلوم
-
کلی نامعلوم
-
کوئی ہم_دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا نامعلوم
-
کون آئے_گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا نامعلوم
-
کون سے شوق کس ہوس کا نہیں نامعلوم
-
کھلا جب چمن میں کتب_خانۂ_گل نامعلوم
-
کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا نامعلوم
-
کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو نامعلوم
-
کہیں بے_خیال ہو کر یوں_ہی چھو لیا کسی نے نامعلوم
-
کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے نامعلوم
-
کیا تم کو علاج_دل_شیدا نہیں آتا نامعلوم
-
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا نامعلوم
-
کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ_آہستہ نامعلوم
-
کیا کیا اے صداؔ تو نے بتا آ کر زمانے میں نامعلوم
-
کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ نامعلوم
-
کیسا دل اور اس کے کیا غم جی نامعلوم
-
کیسے جانے_گا وہ میرے گھر کا رستا نامعلوم
-
کیوں کہیں بیٹھ کے دم لیتے نہیں ایک گھڑی نامعلوم
-
ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے نامعلوم
-
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے نامعلوم
-
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے نامعلوم
-
ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی نامعلوم
-
ہر روز جو مر جانے کا اعلان کرو ہو نامعلوم
-
ہر طرف یار کا تماشا ہے نامعلوم
-
ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے نامعلوم
-
ہم ان کے در پہ نہ جاتے تو اور کیا کرتے نامعلوم
-
ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے نامعلوم
-
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے نامعلوم
-
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں نامعلوم
-
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں نامعلوم
-
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر نامعلوم
-
ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائے نامعلوم
-
ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی نامعلوم
-
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے نامعلوم
-
ہماری تحریریں وارداتیں بہت زمانے کے بعد ہوں_گی نامعلوم
-
ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں_گے نامعلوم
-
ہنستے_ہنستے نہ سہی رو کے ہی کٹ جانے دو نامعلوم
-
ہنسنے والے اب ایک کام کریں نامعلوم
-
ہو جائے_گی جب تم سے شناسائی ذرا اور نامعلوم
-
ہے آرزو کہ اور تو کیا خود خدا نہ ہو نامعلوم
-
ہے بکھرنے کو یہ محفل_رنگ_و_بو تم کہاں جاؤ_گے ہم کہاں جائیں_گے نامعلوم
-
ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں نامعلوم
-
ہے مشق_سخن جاری چکی کی مشقت بھی نامعلوم
-
ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ_گے نامعلوم
-
یا رب یہ جہان_گزراں خوب ہے لیکن (ردیف .. د) نامعلوم
-
یاد اسے انتہائی کرتے ہیں نامعلوم
-
یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں نامعلوم
-
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے نامعلوم
-
یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا نامعلوم
-
یکم جنوری ہے نیا سال ہے نامعلوم
-
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو نامعلوم
-
یہ پیہم تلخ_کامی سی رہی کیا نامعلوم
-
یہ خبر بھی چھاپئے_گا آج کے اخبار میں نامعلوم
-
یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا نامعلوم
-
یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں نامعلوم
-
یہ غزال سی نگاہیں یہ شباب یہ ادائیں نامعلوم
-
یہ غزال سی نگاہیں یہ شباب یہ ادائیں نامعلوم
-
یہ غزال سی نگاہیں یہ شباب یہ ادائیں نامعلوم
-
یہ مصرع کاش نقش_ہر_در_و_دیوار ہو جائے نامعلوم
-
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال_یار ہوتا نامعلوم
-
یہ کار_زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے نامعلوم
-
یہ کون آ گئی دل_ربا مہکی مہکی نامعلوم
-
یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے نامعلوم
-
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
1919 کی ایک بات نامعلوم
-
Based on Sadat Hassan Manto's short story "Thanda Gosht" نامعلوم
-
Buu نامعلوم
-
jab teri samundar aankhon mein نامعلوم
-
KHatm hui barish-e-sang نامعلوم
-
Khol do نامعلوم
-
Khol Do (Photo Story) نامعلوم
-
KHuda wo waqt na lae نامعلوم
-
kya karen نامعلوم
-
lauh-o-qalam نامعلوم
-
main tere sapne dekhun نامعلوم
-
mere dard ko jo zaban mile نامعلوم
-
mere hamdam mere dost نامعلوم
-
mere hi lahu par guzar auqat karo ho نامعلوم
-
Piran نامعلوم
-
shishon ka masiha koi nahin نامعلوم
-
tin aawazen - Part 2 نامعلوم
-
tum apni karni kar guzro نامعلوم
-
Zihaal-e-Miskeen - Sannata Soundtrack نامعلوم
-
آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں نامعلوم
-
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے نامعلوم
-
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے نامعلوم
-
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں نامعلوم
-
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں نامعلوم
-
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں نامعلوم
-
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں نامعلوم
-
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر نامعلوم
-
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر نامعلوم
-
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر نامعلوم
-
آج تو بے_سبب اداس ہے جی نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج جانے کی ضد نہ کرو نامعلوم
-
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے_گی نامعلوم
-
آخری سلیوٹ نامعلوم
-
آرزو ہے وفا کرے کوئی نامعلوم
-
آرٹسٹ لوگ نامعلوم
-
آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا نامعلوم
-
آم نامعلوم
-
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے_گا نامعلوم
-
آنکھوں پر چربی نامعلوم
-
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو نامعلوم
-
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے نامعلوم
-
آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواں نامعلوم
-
آنکھیں نامعلوم
-
آوارہ نامعلوم
-
آوارہ نامعلوم
-
آوارہ نامعلوم
-
آہ جو دل سے نکالی جائے_گی نامعلوم
-
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک نامعلوم
-
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک نامعلوم
-
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو نامعلوم
-
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو نامعلوم
-
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے نامعلوم
-
اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو نامعلوم
-
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے نامعلوم
-
اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس (ردیف .. ا) نامعلوم
-
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں نامعلوم
-
ابجی ڈ ڈو نامعلوم
-
ابن_مریم ہوا کرے کوئی نامعلوم
-
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں نامعلوم
-
ابھی تو میں جوان ہوں نامعلوم
-
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم نامعلوم
-
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے نامعلوم
-
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے نامعلوم
-
اپنی دھن میں رہتا ہوں نامعلوم
-
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں نامعلوم
-
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں نامعلوم
-
اپنے کو تلاش کر رہا ہوں نامعلوم
-
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو نامعلوم
-
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو نامعلوم
-
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو نامعلوم
-
اتنا معلوم ہے! نامعلوم
-
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا نامعلوم
-
اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد نامعلوم
-
اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے نامعلوم
-
اردو نامعلوم
-
اس سے پہلے کہ بے_وفا ہو جائیں نامعلوم
-
اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے نامعلوم
-
اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہے نامعلوم
-
اشک_رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو نامعلوم
-
اصلی جن نامعلوم
-
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے_گا نامعلوم
-
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے_گا نامعلوم
-
اللہ دتا نامعلوم
-
انار کلی نامعلوم
-
انتساب نامعلوم
-
اندھا کباڑی نامعلوم
-
انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی نامعلوم
-
اولاد نامعلوم
-
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے نامعلوم
-
اک دانش_نورانی اک دانش_برہانی نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔ نامعلوم
-
ایک خط نامعلوم
-
ایک رہگزر پر نامعلوم
-
ایک سایہ مرا مسیحا تھا نامعلوم
-
ایک لڑکا نامعلوم
-
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے نامعلوم
-
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو نامعلوم
-
بابو گوپی ناتھ نامعلوم
-
بات میری کبھی سنی ہی نہیں نامعلوم
-
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی نامعلوم
-
بادشاہت کا خاتمہ نامعلوم
-
بارش نامعلوم
-
بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے نامعلوم
-
بچنی نامعلوم
-
بدصورتی نامعلوم
-
بدصورتی نامعلوم
-
برق_کلیسا نامعلوم
-
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا نامعلوم
-
بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا نامعلوم
-
بنجارہ_نامہ نامعلوم
-
بنجارہ_نامہ نامعلوم
-
بندرابن کے کرشن_کنھیا اللہ_ہو نامعلوم
-
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں نامعلوم
-
بیمار نامعلوم
-
بیمار_محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے نامعلوم
-
بے_قراری سی بے_قراری ہے نامعلوم
-
بے_نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا نامعلوم
-
بے_نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا نامعلوم
-
بے_نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا نامعلوم
-
پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو نامعلوم
-
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے نامعلوم
-
پھر شب_غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر نامعلوم
-
پھول مرجھا گئے سارے نامعلوم
-
ترانۂ_ہندی نامعلوم
-
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں نامعلوم
-
تصویر_درد نامعلوم
-
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں نامعلوم
-
تماشائے_دیر_و_حرم دیکھتے ہیں نامعلوم
-
تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے نامعلوم
-
تو اگر سیر کو نکلے نامعلوم
-
تو جب میرے گھر آیا تھا نامعلوم
-
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے نامعلوم
-
تیری صورت جو دل_نشیں کی ہے نامعلوم
-
جب رن میں سر_بلند علی کا علم ہوا نامعلوم
-
جب عشق سکھاتا ہے آداب_خود_آگاہی نامعلوم
-
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو نامعلوم
-
جنون_شوق اب بھی کم نہیں ہے نامعلوم
-
جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے_گا نامعلوم
-
جڑیں نامعلوم
-
جہاں تیرا نقش_قدم دیکھتے ہیں نامعلوم
-
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی نامعلوم
-
چاندنی چھت پہ چل رہی ہوگی نامعلوم
-
چند روز اور مری جان نامعلوم
-
حیرتوں کے سلسلے سوز_نہاں تک آ گئے نامعلوم
-
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا نامعلوم
-
خدا اثر سے بچائے اس آستانے کو نامعلوم
-
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں نامعلوم
-
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں نامعلوم
-
درد منت_کش_دوا نہ ہوا نامعلوم
-
دل چرا کر نظر چرائی ہے نامعلوم
-
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں نامعلوم
-
دل کو غم_حیات گوارا ہے ان دنوں نامعلوم
-
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں نامعلوم
-
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں نامعلوم
-
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں نامعلوم
-
دل ہی تو ہے نہ سنگ_و_خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں نامعلوم
-
دل ہی تو ہے نہ سنگ_و_خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں نامعلوم
-
دل_من مسافر_من نامعلوم
-
دل_ناداں تجھے ہوا کیا ہے نامعلوم
-
دو ہاتھ نامعلوم
-
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو نامعلوم
-
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے نامعلوم
-
ذرا سی دھوپ ذرا سی نمی کے آنے سے نامعلوم
-
رات اور ریل نامعلوم
-
رات اور ریل نامعلوم
-
رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے_گی نامعلوم
-
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی نامعلوم
-
رقص نامعلوم
-
رنگ بے_رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے نامعلوم
-
روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں نامعلوم
-
روگ ایسے بھی غم_یار سے لگ جاتے ہیں نامعلوم
-
رکی رکی سی شب_مرگ ختم پر آئی نامعلوم
-
زحال_مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں نامعلوم
-
زلفیں سینہ ناف کمر نامعلوم
-
زمانہ خدا ہے نامعلوم
-
زنداں کی ایک شام نامعلوم
-
زندگی سے ڈرتے ہو نامعلوم
-
زندگی سے ڈرتے ہو نامعلوم
-
سائے نامعلوم
-
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ نامعلوم
-
سب کہاں کچھ لالہ_و_گل میں نمایاں ہو گئیں نامعلوم
-
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں نامعلوم
-
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں نامعلوم
-
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نامعلوم
-
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں نامعلوم
-
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں نامعلوم
-
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں نامعلوم
-
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں نامعلوم
-
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی نامعلوم
-
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے نامعلوم
-
شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ_دل ہی چھوٹ گیا نامعلوم
-
طارق کی دعا نامعلوم
-
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا نامعلوم
-
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا نامعلوم
-
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا نامعلوم
-
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا نامعلوم
-
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی نامعلوم
-
عقل گو آستاں سے دور نہیں نامعلوم
-
عقل گو آستاں سے دور نہیں نامعلوم
-
عمر گزرے_گی امتحان میں کیا نامعلوم
-
عورت ذات نامعلوم
-
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا نامعلوم
-
فرض کرو نامعلوم
-
فطرت کو خرد کے روبرو کر نامعلوم
-
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا نامعلوم
-
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا نامعلوم
-
گرد_سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے نامعلوم
-
گفتگو (ہند پاک دوستی کے نام) نامعلوم
-
گھٹا ہے باغ ہے مے ہے سبو ہے جام ہے ساقی نامعلوم
-
گیسوئے_تابدار کو اور بھی تابدار کر نامعلوم
-
لاؤ تو قتل_نامہ مرا نامعلوم
-
لحاف نامعلوم
-
لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا نامعلوم
-
لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں نامعلوم
-
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا نامعلوم
-
مآل_سوز_غم_ہائے_نہانی دیکھتے جاؤ نامعلوم
-
متاع_بے_بہا ہے درد_و_سوز_آرزو_مندی نامعلوم
-
مجرم نامعلوم
-
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نامعلوم
-
مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہے نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نامعلوم
-
محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں نامعلوم
-
محبت کا اثر جاتا کہاں ہے نامعلوم
-
مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ نامعلوم
-
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل_نوازی کا نامعلوم
-
مشیر نامعلوم
-
مل ہی جائے_گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے نامعلوم
-
مٹا دیا مرے ساقی نے عالم_من_و_تو نامعلوم
-
مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتا نامعلوم
-
مٹی کا دیا نامعلوم
-
ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میں نامعلوم
-
نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں نامعلوم
-
ننھی پجارن نامعلوم
-
نوجوان خاتون سے نامعلوم
-
نوجوان سے نامعلوم
-
نورا نامعلوم
-
نورا نامعلوم
-
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی نامعلوم
-
نہ تخت_و_تاج میں نے لشکر_و_سپاہ میں ہے نامعلوم
-
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے نامعلوم
-
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں نامعلوم
-
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم نامعلوم
-
نیت_شوق بھر نہ جائے کہیں نامعلوم
-
نیند آنکھوں سے اڑی پھول سے خوشبو کی طرح نامعلوم
-
و_یبقٰی_وجہ_ربک(ہم دیکھیں_گے) نامعلوم
-
و_یبقٰی_وجہ_ربک(ہم دیکھیں_گے) نامعلوم
-
وطن کا راگ نامعلوم
-
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے نامعلوم
-
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے نامعلوم
-
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے نامعلوم
-
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے نامعلوم
-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا نامعلوم
-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا نامعلوم
-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا نامعلوم
-
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا نامعلوم
-
وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہے نامعلوم
-
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں نامعلوم
-
کبھی اے حقیقت_منتظر نظر آ لباس_مجاز میں نامعلوم
-
کبھی اے حقیقت_منتظر نظر آ لباس_مجاز میں نامعلوم
-
کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا نامعلوم
-
کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش_ماضی مٹے مٹے سے نامعلوم
-
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا نامعلوم
-
کتے نامعلوم
-
کتے نامعلوم
-
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا نامعلوم
-
کرو_گے یاد تو ہر بات یاد آئے_گی نامعلوم
-
کس سے اظہار_مدعا کیجے نامعلوم
-
کس سے اظہار_مدعا کیجے نامعلوم
-
کمال_ضبط کو خود بھی تو آزماؤں_گی نامعلوم
-
کمال_عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں نامعلوم
-
کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوں نامعلوم
-
کنار_آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی نامعلوم
-
کو_بہ_کو پھیل گئی بات شناسائی کی نامعلوم
-
کوئی امید بر نہیں آتی نامعلوم
-
کوئی خاموش زخم لگتی ہے نامعلوم
-
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے نامعلوم
-
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے نامعلوم
-
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے نامعلوم
-
کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے نامعلوم
-
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے نامعلوم
-
کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگی نامعلوم
-
کیا کریں نامعلوم
-
کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب_گار لا چکے نامعلوم
-
ہارٹ_اٹیک نامعلوم
-
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے نامعلوم
-
ہر ایک شب یوں_ہی دیکھیں_گی سوئے_در آنکھیں نامعلوم
-
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق نامعلوم
-
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے نامعلوم
-
ہم باغ_تمنا میں دن اپنے گزار آئے نامعلوم
-
ہم بھی شاعر تھے کبھی جان_سخن یاد نہیں نامعلوم
-
ہم تو مجبور_وفا ہیں نامعلوم
-
ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر نامعلوم
-
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں نامعلوم
-
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت نامعلوم
-
ہولی نامعلوم
-
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب_تر کہاں نامعلوم
-
یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہا نامعلوم
-
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال_یار ہوتا نامعلوم
-
ruk gaya aankh se behta hua dariya kaise نامعلوم
کلام شاعر بہ زبان شاعر
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج_کل اتنی فرصت نہیں ہے نامعلوم
شاعری
-
نامعلوم
-
نامعلوم
-
A documentary نامعلوم
-
Documentary - Tribute to Mushtaq Ahmed Yousufi نامعلوم
-
Doordarshan Interview نامعلوم
-
Interview on Doordarshan Urdu نامعلوم
-
Interview on TV Link, Denmark - Part 1 نامعلوم
-
Interview on TV Link, Denmark - Part 2 نامعلوم
-
Interview on TV Link, Denmark - Part 3 نامعلوم
-
Manto on being censored as read by Khalid Ahmed نامعلوم
-
Mubarak Haider Interview Irum Abasi 110421 bb نامعلوم
-
NADIA BATOOL BOKHARI WAQT NEWS TV Shakeb Jalali نامعلوم
-
PTV Global Interview Part 1 نامعلوم
-
REPORT ON SA'ADAT HASSAN MANTO BY OWAIS JAFFRY ON HIS BIRTHDAY ANNIVERSARY نامعلوم
-
TAIBA JO YAAD AYA professor iqbal azeem naat's by shoaib ameer نامعلوم
-
Urdu Mizahiya Shayar Interview نامعلوم
Studio Videos
-
ریکھا بھاردواج
-
ریکھا بھاردواج
-
ریکھا بھاردواج
-
ریکھا بھاردواج
-
ریکھا بھاردواج
-
ریکھا بھاردواج
-
Jab bhi koi sitara toota Ghazal Sradar Anjum recite by Tom Alter at Rekhta ٹام الٹر
-
Tere Ishq Mein by Rekha Bhardwaj ریکھا بھاردواج
دیگر
-
اقبال بانو
-
اقبال بانو
-
ہری ہرن
-
ہری ہرن
-
بیگم اختر
-
بیگم اختر
-
بیگم اختر
-
بیگم اختر
-
رفاقت علی خان
-
رفاقت علی خان
-
پرتبھا بگھیل
-
پرتبھا بگھیل
-
صابری بردرس
-
خورشید بیگم
-
فریدہ خانم
-
-
سدیپ بنرجی
-
ضیا محی الدین
-
سدیپ بنرجی
-
Do sharmeele nain سدیپ بنرجی
-
Gairon Se Dil Lagane Ki Aadat Nahi بھارتی وشواناتھن
-
Kaash ke dil do to hote ishq mein سدیپ بنرجی
-
Ye dil jata hai سدیپ بنرجی
-
پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج_کل اتنی فرصت نہیں ہے نصرت فتح علی خان
-
دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں تانیہ ویلس
-
سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا نصرت فتح علی خان
-
مست نظروں سے اللہ بچائے مہ_جمالوں سے اللہ بچائے نصرت فتح علی خان
-
میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ_الم دے گئے ہیں نصرت فتح علی خان
-
کہنا غلط غلط تو چھپانا سہی سہی نصرت فتح علی خان
-
یہ گھر مرا گلشن ہے گلشن کا خدا حافظ نور جہاں
-
رہتا ہے مے_خانے ہی کے آس_پاس نامعلوم