ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار

ریل گاڑیاں ہمیں یک لخت

ہمیں کئی چیزوں کی یاد دلاتی ہیں۔ بچپن میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھ کر زمین کے ساتھ پیڑوں اور عمارتوں کو تجسس کے ساتھ پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھنا، کسی ایسے خوش گوار شہر میں گھومنا جس کے بارے میں صرف آوروں سے سنا تھا یا اپنے کسی محبوب کو الوداع کہنے کا کرب۔ ان یادوں کو اپنے میں سمیٹے یہ منتخب اشعار پڑھئے اور ہمارے ساتھ ایک جذباتی سفر پر روانہ ہو جائیے۔

محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں

جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا

کیف احمد صدیقی

رات تھی جب تمہارا شہر آیا

پھر بھی کھڑکی تو میں نے کھول ہی لی

شارق کیفی

تو کسی ریل سی گزرتی ہے

میں کسی پل سا تھرتھراتا ہوں

دشینت کمار

ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی

یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

نعمان شوق

یادوں کی ریل اور کہیں جا رہی تھی پھر

زنجیر کھینچ کر ہی اترنا پڑا مجھے

زہرا شاہ

اک دندناتی ریل سی عمریں گزر گئیں

دو پٹریوں کے بیچ وہی فاصلے رہے

محمد اسد اللہ

انجمؔ تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف

اک ریل جا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

انجم رہبر

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ

ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

منیر نیازی

اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں

وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے

جمال احسانی

گاڑی آتی ہے لیکن آتی ہی نہیں

ریل کی پٹری دیکھ کے تھک جاتا ہوں میں

محمد علوی

جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے

کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں

امجد اسلام امجد

سرما کی رات ریل کا ڈبہ اداسیاں

لمبا سفر ہے اور ترا ساتھ بھی نہیں

سلیم بیتاب

جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہے

کوئی ریل کی سیٹی سن کر سوتے سے اٹھ جاتا ہے

صابر وسیم

پیچھے پیچھے رات تھی تاروں کا اک لشکر لئے

ریل کی پٹری پہ سورج چل رہا تھا رات کو

بشیر بدر

ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں

کہیں روگ بن نہ جائے یہی ساتھ دو گھڑی کا

اعتبار ساجد

کون کتنا ضبط کر سکتہ ہے کرب‌ ہجر کو

ریل جب چلنے لگے گی فیصلہ ہو جائے گا

خواجہ ساجد

اس طرح ریل کے ہم راہ رواں ہے بادل

ساتھ جیسے کوئی اڑتا ہوا مے خانہ چلے

اختر شیرانی

دھویں کی ریل چلی منظروں میں دکھ گونجا

سفر کی بات بھی ہے بات چھوڑ جانے کی

وقاص عزیز

ریل گاڑی کے سفر میں یہ ہوا ہے اکثر

لوگ بیٹھے ہوئے سامان بدل دیتے ہیں

سعید رحمانی

ریل کی پٹری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے

آپ اپنی ذات سے اس کو بہت انکار تھا

عتیق اللہ
بولیے