Muneer Niyazi's Photo'

منیر نیازی

1928 - 2006 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

منیر نیازی کے شعر

48K
Favorite

باعتبار

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ

غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے

ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ

اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی

گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں

میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت

شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس

رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ

آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن

وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی

بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری

یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا

کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا

یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ

مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

کسی اکیلی شام کی چپ میں

گیت پرانے گا کے دیکھو

میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں

مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو

حسن والوں کی سادگی نہ گئی

تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو

میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

کتنے یار ہیں پھر بھی منیرؔ اس آبادی میں اکیلا ہے

اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے

تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا

یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی

رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں

میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میں

خیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھا

غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا

بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر

اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے

جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں

اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو

ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ

اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں

چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا

عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے

تخت خالی رہا نہیں کرتا

ہے منیرؔ تیری نگاہ میں

کوئی بات گہرے ملال کی

رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر

ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں

ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر

ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا

کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ

جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI