شراب پر 20 مشہور شعر
اگر آپ کو بس یوں ہی
بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ
جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں الٹا پن اور طنزیہ کیفیت ہے: مے خانہ جہاں سرمستی کی توقع ہوتی ہے، وہاں شراب پینے کے بعد سنجیدگی آ جاتی ہے۔ شراب یہاں صرف نشہ نہیں، تجربے اور حقیقت کے ذائقے کا استعارہ بھی ہے جو ہنسی چھین کر سوچ جگا دیتا ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ اندر کی آنکھ کھلتے ہی بے فکری ختم ہو جاتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں الٹا پن اور طنزیہ کیفیت ہے: مے خانہ جہاں سرمستی کی توقع ہوتی ہے، وہاں شراب پینے کے بعد سنجیدگی آ جاتی ہے۔ شراب یہاں صرف نشہ نہیں، تجربے اور حقیقت کے ذائقے کا استعارہ بھی ہے جو ہنسی چھین کر سوچ جگا دیتا ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ اندر کی آنکھ کھلتے ہی بے فکری ختم ہو جاتی ہے۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالب ایک ایسے رند کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کے جسمانی قویٰ جواب دے چکے ہیں مگر شوق کی آگ اب بھی روشن ہے۔ وہ جام اٹھانے سے قاصر ہے لیکن شراب و مینا کا دیدار کر کے ہی اپنی تشنگی بجھانا چاہتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم کی موت کے باوجود خواہش زندہ رہتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالب ایک ایسے رند کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کے جسمانی قویٰ جواب دے چکے ہیں مگر شوق کی آگ اب بھی روشن ہے۔ وہ جام اٹھانے سے قاصر ہے لیکن شراب و مینا کا دیدار کر کے ہی اپنی تشنگی بجھانا چاہتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم کی موت کے باوجود خواہش زندہ رہتی ہے۔
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر چھوڑی ہوئی عادت کے لوٹ آنے کی نازک سی اعترافی کیفیت بیان کرتا ہے۔ روزِ ابر اداسی اور بوجھل پن کی علامت ہے، اور شبِ ماہتاب نرمی، سرشاری اور تنہائی کی۔ دونوں موسم دل کے اندر کی کمزوری کو جگا کر شراب کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر چھوڑی ہوئی عادت کے لوٹ آنے کی نازک سی اعترافی کیفیت بیان کرتا ہے۔ روزِ ابر اداسی اور بوجھل پن کی علامت ہے، اور شبِ ماہتاب نرمی، سرشاری اور تنہائی کی۔ دونوں موسم دل کے اندر کی کمزوری کو جگا کر شراب کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
-
موضوعات: شراباور 1 مزید
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب/ساقی کی ناراضی کو مان کر بھی اپنی طلب سے دستبردار نہیں ہوتا۔ پیالے کی عزت و آداب کی پروا نہیں، ہاتھ کی اوک بھی قبول ہے—بس مے مل جائے۔ یہاں شراب محبت، توجہ یا فیض کی علامت ہے، اور جذبہ یہ ہے کہ رد کے باوجود اصرار باقی ہے: صورت نہ سہی، حقیقت تو دے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب/ساقی کی ناراضی کو مان کر بھی اپنی طلب سے دستبردار نہیں ہوتا۔ پیالے کی عزت و آداب کی پروا نہیں، ہاتھ کی اوک بھی قبول ہے—بس مے مل جائے۔ یہاں شراب محبت، توجہ یا فیض کی علامت ہے، اور جذبہ یہ ہے کہ رد کے باوجود اصرار باقی ہے: صورت نہ سہی، حقیقت تو دے۔
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
EXPLANATION #1
یہ شعر معنی اور تلازمات دونوں کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ شعر میں وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جنہیں اردو غزل کی روایت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً زاہدِ شراب، کافر، ایمان۔ مگر معنی کی سطح پر ذوقؔ نے طنزیہ لہجے سے جو بات پیدا کی ہے وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ شعر میں زاہد کی مناسبت سے شراب، کافر کی مناسبت سے ایمان کے علاوہ پینے، پانی اور بہنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ اپنے اندر میں ایک شاعرانہ کمال ہے۔ زاہد اردو غزل کی روایت میں ان کرداروں میں سے ایک ہے جن پر شاعروں نے کھل کر طنز کئے ہیں۔
شعر ی کردار زاہد سے سوال پوچھتا ہے کہ شراب پینے سے آدمی کافر کیسے ہوسکتا ہے، کیا ایمان اس قدر کمزور چیز ہوتی ہے کہ ذرا سے پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اس شعر کے بین السطور میں جو زاہد پر طنز کیا گیا ہے وہ ’’ڈیڑھ چلو‘‘ پانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی میں نے تو ذرا سی شراب پی لی ہے اور تم نے مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کیا تمہاری نظر میں ایمان اس قدر کمزور شےہے کہ ذرا سی شراب پینے سے ختم ہوتا ہے۔
شفق سوپوری
EXPLANATION #1
یہ شعر معنی اور تلازمات دونوں کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ شعر میں وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جنہیں اردو غزل کی روایت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً زاہدِ شراب، کافر، ایمان۔ مگر معنی کی سطح پر ذوقؔ نے طنزیہ لہجے سے جو بات پیدا کی ہے وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ شعر میں زاہد کی مناسبت سے شراب، کافر کی مناسبت سے ایمان کے علاوہ پینے، پانی اور بہنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ اپنے اندر میں ایک شاعرانہ کمال ہے۔ زاہد اردو غزل کی روایت میں ان کرداروں میں سے ایک ہے جن پر شاعروں نے کھل کر طنز کئے ہیں۔
شعر ی کردار زاہد سے سوال پوچھتا ہے کہ شراب پینے سے آدمی کافر کیسے ہوسکتا ہے، کیا ایمان اس قدر کمزور چیز ہوتی ہے کہ ذرا سے پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اس شعر کے بین السطور میں جو زاہد پر طنز کیا گیا ہے وہ ’’ڈیڑھ چلو‘‘ پانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی میں نے تو ذرا سی شراب پی لی ہے اور تم نے مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کیا تمہاری نظر میں ایمان اس قدر کمزور شےہے کہ ذرا سی شراب پینے سے ختم ہوتا ہے۔
شفق سوپوری
-
موضوع: شراب
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر زاہد کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مے کی سرشاری اور لذت وہی جان سکتا ہے جس نے خود اسے آزمایا ہو۔ یہاں مے محض شراب نہیں بلکہ زندگی کے ذائقے، سرمستی اور آزاد احساس کی علامت ہے۔ طنزیہ انداز میں زاہد کی بے تجربگی کو بدقسمتی کہا گیا ہے، کہ بغیر چکھے حکم لگانا کھوکھلا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر زاہد کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مے کی سرشاری اور لذت وہی جان سکتا ہے جس نے خود اسے آزمایا ہو۔ یہاں مے محض شراب نہیں بلکہ زندگی کے ذائقے، سرمستی اور آزاد احساس کی علامت ہے۔ طنزیہ انداز میں زاہد کی بے تجربگی کو بدقسمتی کہا گیا ہے، کہ بغیر چکھے حکم لگانا کھوکھلا ہے۔
-
موضوع: شراب
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے زاہدوں اور ملاؤں کی ظاہری پرہیزگاری پر چوٹ کی ہے۔ ذوقؔ کا کہنا ہے کہ مدرسے نے ان میں تکبر اور تنگ نظری پیدا کر دی ہے، جبکہ مے خانہ (جو محبت اور بے خودی کی علامت ہے) میں آ کر ان کا غرور ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے زاہدوں اور ملاؤں کی ظاہری پرہیزگاری پر چوٹ کی ہے۔ ذوقؔ کا کہنا ہے کہ مدرسے نے ان میں تکبر اور تنگ نظری پیدا کر دی ہے، جبکہ مے خانہ (جو محبت اور بے خودی کی علامت ہے) میں آ کر ان کا غرور ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔
-
موضوعات: مے کدہاور 1 مزید
ساقیا تشنگی کی تاب نہیں
زہر دے دے اگر شراب نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں تشنگی محض پیاس نہیں بلکہ شدتِ خواہش اور اندر کی جلن کی علامت ہے۔ شراب تسکین، سرمستی یا محبوب کی عنایت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جب وہ میسر نہیں تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی بےقراری سے بہتر ہے کہ زہر مل جائے۔ شعر میں بےبسی اور انتہا درجے کی کیفیت نمایاں ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں تشنگی محض پیاس نہیں بلکہ شدتِ خواہش اور اندر کی جلن کی علامت ہے۔ شراب تسکین، سرمستی یا محبوب کی عنایت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جب وہ میسر نہیں تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی بےقراری سے بہتر ہے کہ زہر مل جائے۔ شعر میں بےبسی اور انتہا درجے کی کیفیت نمایاں ہے۔
پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں
-
موضوعات: شراباور 1 مزید
شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے
یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا
EXPLANATION #1
جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔
شفق سوپوری
EXPLANATION #1
جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔
شفق سوپوری