Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شراب پر 20 مشہور شعر

اگر آپ کو بس یوں ہی

بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

نامعلوم

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

دواکر راہی

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں الٹا پن اور طنزیہ کیفیت ہے: مے خانہ جہاں سرمستی کی توقع ہوتی ہے، وہاں شراب پینے کے بعد سنجیدگی آ جاتی ہے۔ شراب یہاں صرف نشہ نہیں، تجربے اور حقیقت کے ذائقے کا استعارہ بھی ہے جو ہنسی چھین کر سوچ جگا دیتا ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ اندر کی آنکھ کھلتے ہی بے فکری ختم ہو جاتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں الٹا پن اور طنزیہ کیفیت ہے: مے خانہ جہاں سرمستی کی توقع ہوتی ہے، وہاں شراب پینے کے بعد سنجیدگی آ جاتی ہے۔ شراب یہاں صرف نشہ نہیں، تجربے اور حقیقت کے ذائقے کا استعارہ بھی ہے جو ہنسی چھین کر سوچ جگا دیتا ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ اندر کی آنکھ کھلتے ہی بے فکری ختم ہو جاتی ہے۔

فراق گورکھپوری

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔

مرزا غالب

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالب ایک ایسے رند کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کے جسمانی قویٰ جواب دے چکے ہیں مگر شوق کی آگ اب بھی روشن ہے۔ وہ جام اٹھانے سے قاصر ہے لیکن شراب و مینا کا دیدار کر کے ہی اپنی تشنگی بجھانا چاہتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم کی موت کے باوجود خواہش زندہ رہتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالب ایک ایسے رند کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کے جسمانی قویٰ جواب دے چکے ہیں مگر شوق کی آگ اب بھی روشن ہے۔ وہ جام اٹھانے سے قاصر ہے لیکن شراب و مینا کا دیدار کر کے ہی اپنی تشنگی بجھانا چاہتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم کی موت کے باوجود خواہش زندہ رہتی ہے۔

مرزا غالب

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر چھوڑی ہوئی عادت کے لوٹ آنے کی نازک سی اعترافی کیفیت بیان کرتا ہے۔ روزِ ابر اداسی اور بوجھل پن کی علامت ہے، اور شبِ ماہتاب نرمی، سرشاری اور تنہائی کی۔ دونوں موسم دل کے اندر کی کمزوری کو جگا کر شراب کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر چھوڑی ہوئی عادت کے لوٹ آنے کی نازک سی اعترافی کیفیت بیان کرتا ہے۔ روزِ ابر اداسی اور بوجھل پن کی علامت ہے، اور شبِ ماہتاب نرمی، سرشاری اور تنہائی کی۔ دونوں موسم دل کے اندر کی کمزوری کو جگا کر شراب کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

مرزا غالب

پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے

پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب/ساقی کی ناراضی کو مان کر بھی اپنی طلب سے دستبردار نہیں ہوتا۔ پیالے کی عزت و آداب کی پروا نہیں، ہاتھ کی اوک بھی قبول ہے—بس مے مل جائے۔ یہاں شراب محبت، توجہ یا فیض کی علامت ہے، اور جذبہ یہ ہے کہ رد کے باوجود اصرار باقی ہے: صورت نہ سہی، حقیقت تو دے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب/ساقی کی ناراضی کو مان کر بھی اپنی طلب سے دستبردار نہیں ہوتا۔ پیالے کی عزت و آداب کی پروا نہیں، ہاتھ کی اوک بھی قبول ہے—بس مے مل جائے۔ یہاں شراب محبت، توجہ یا فیض کی علامت ہے، اور جذبہ یہ ہے کہ رد کے باوجود اصرار باقی ہے: صورت نہ سہی، حقیقت تو دے۔

مرزا غالب

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

ندا فاضلی

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

EXPLANATION #1

یہ شعر معنی اور تلازمات دونوں کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ شعر میں وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جنہیں اردو غزل کی روایت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً زاہدِ شراب، کافر، ایمان۔ مگر معنی کی سطح پر ذوقؔ نے طنزیہ لہجے سے جو بات پیدا کی ہے وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ شعر میں زاہد کی مناسبت سے شراب، کافر کی مناسبت سے ایمان کے علاوہ پینے، پانی اور بہنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ اپنے اندر میں ایک شاعرانہ کمال ہے۔ زاہد اردو غزل کی روایت میں ان کرداروں میں سے ایک ہے جن پر شاعروں نے کھل کر طنز کئے ہیں۔

شعر ی کردار زاہد سے سوال پوچھتا ہے کہ شراب پینے سے آدمی کافر کیسے ہوسکتا ہے، کیا ایمان اس قدر کمزور چیز ہوتی ہے کہ ذرا سے پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اس شعر کے بین السطور میں جو زاہد پر طنز کیا گیا ہے وہ ’’ڈیڑھ چلو‘‘ پانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی میں نے تو ذرا سی شراب پی لی ہے اور تم نے مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کیا تمہاری نظر میں ایمان اس قدر کمزور شےہے کہ ذرا سی شراب پینے سے ختم ہوتا ہے۔

شفق سوپوری

EXPLANATION #1

یہ شعر معنی اور تلازمات دونوں کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ شعر میں وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جنہیں اردو غزل کی روایت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً زاہدِ شراب، کافر، ایمان۔ مگر معنی کی سطح پر ذوقؔ نے طنزیہ لہجے سے جو بات پیدا کی ہے وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ شعر میں زاہد کی مناسبت سے شراب، کافر کی مناسبت سے ایمان کے علاوہ پینے، پانی اور بہنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ اپنے اندر میں ایک شاعرانہ کمال ہے۔ زاہد اردو غزل کی روایت میں ان کرداروں میں سے ایک ہے جن پر شاعروں نے کھل کر طنز کئے ہیں۔

شعر ی کردار زاہد سے سوال پوچھتا ہے کہ شراب پینے سے آدمی کافر کیسے ہوسکتا ہے، کیا ایمان اس قدر کمزور چیز ہوتی ہے کہ ذرا سے پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اس شعر کے بین السطور میں جو زاہد پر طنز کیا گیا ہے وہ ’’ڈیڑھ چلو‘‘ پانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی میں نے تو ذرا سی شراب پی لی ہے اور تم نے مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کیا تمہاری نظر میں ایمان اس قدر کمزور شےہے کہ ذرا سی شراب پینے سے ختم ہوتا ہے۔

شفق سوپوری

شیخ ابراہیم ذوقؔ

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں

چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

بشیر بدر

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد

ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر زاہد کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مے کی سرشاری اور لذت وہی جان سکتا ہے جس نے خود اسے آزمایا ہو۔ یہاں مے محض شراب نہیں بلکہ زندگی کے ذائقے، سرمستی اور آزاد احساس کی علامت ہے۔ طنزیہ انداز میں زاہد کی بے تجربگی کو بدقسمتی کہا گیا ہے، کہ بغیر چکھے حکم لگانا کھوکھلا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر زاہد کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مے کی سرشاری اور لذت وہی جان سکتا ہے جس نے خود اسے آزمایا ہو۔ یہاں مے محض شراب نہیں بلکہ زندگی کے ذائقے، سرمستی اور آزاد احساس کی علامت ہے۔ طنزیہ انداز میں زاہد کی بے تجربگی کو بدقسمتی کہا گیا ہے، کہ بغیر چکھے حکم لگانا کھوکھلا ہے۔

داغؔ دہلوی

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا

ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے زاہدوں اور ملاؤں کی ظاہری پرہیزگاری پر چوٹ کی ہے۔ ذوقؔ کا کہنا ہے کہ مدرسے نے ان میں تکبر اور تنگ نظری پیدا کر دی ہے، جبکہ مے خانہ (جو محبت اور بے خودی کی علامت ہے) میں آ کر ان کا غرور ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے زاہدوں اور ملاؤں کی ظاہری پرہیزگاری پر چوٹ کی ہے۔ ذوقؔ کا کہنا ہے کہ مدرسے نے ان میں تکبر اور تنگ نظری پیدا کر دی ہے، جبکہ مے خانہ (جو محبت اور بے خودی کی علامت ہے) میں آ کر ان کا غرور ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

نامعلوم

ساقیا تشنگی کی تاب نہیں

زہر دے دے اگر شراب نہیں

Interpretation: Rekhta AI

یہاں تشنگی محض پیاس نہیں بلکہ شدتِ خواہش اور اندر کی جلن کی علامت ہے۔ شراب تسکین، سرمستی یا محبوب کی عنایت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جب وہ میسر نہیں تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی بےقراری سے بہتر ہے کہ زہر مل جائے۔ شعر میں بےبسی اور انتہا درجے کی کیفیت نمایاں ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

یہاں تشنگی محض پیاس نہیں بلکہ شدتِ خواہش اور اندر کی جلن کی علامت ہے۔ شراب تسکین، سرمستی یا محبوب کی عنایت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جب وہ میسر نہیں تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی بےقراری سے بہتر ہے کہ زہر مل جائے۔ شعر میں بےبسی اور انتہا درجے کی کیفیت نمایاں ہے۔

داغؔ دہلوی

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب

کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح

اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

شکیل بدایونی

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے

یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

EXPLANATION #1

جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔

شفق سوپوری

EXPLANATION #1

جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔

شفق سوپوری

عبد الحمید عدم

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

جگر مراد آبادی
بولیے