Abdul Hamid Adam's Photo'

عبد الحمید عدم

1910 - 1981 | پاکستان

مقبول عام شاعر، زندگی اور محبت پر مبنی رومانی شاعری کے لیے معروف

مقبول عام شاعر، زندگی اور محبت پر مبنی رومانی شاعری کے لیے معروف

عبد الحمید عدم کے اشعار

33.8K
Favorite

باعتبار

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

دوستوں کی مہربانی چاہئے

جن سے انساں کو پہنچتی ہے ہمیشہ تکلیف

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اصل خدا والے ہیں

اے غم زندگی نہ ہو ناراض

مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ

بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

حسن اک دل ربا حکومت ہے

عشق اک قدرتی غلامی ہے

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا

کون انگڑائی لے رہا ہے عدمؔ

دو جہاں لڑکھڑائے جاتے ہیں

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے

یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

مسکراہٹ ہے حسن کا زیور

مسکرانا نہ بھول جایا کرو

اک حسیں آنکھ کے اشارے پر

قافلے راہ بھول جاتے ہیں

ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند

مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے

جب ترے نین مسکراتے ہیں

زیست کے رنج بھول جاتے ہیں

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے

سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی

کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے

شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ

دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا

دل خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر

میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

میں عمر بھر جواب نہیں دے سکا عدمؔ

وہ اک نظر میں اتنے سوالات کر گئے

ذرا اک تبسم کی تکلیف کرنا

کہ گلزار میں پھول مرجھا رہے ہیں

صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

سوال کر کے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں

جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر

میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی

کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا

ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا

کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں

مرنے والے تو خیر ہیں بے بس

جینے والے کمال کرتے ہیں

مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ

کوئی آفت ادھر نہیں آتی

جن کو دولت حقیر لگتی ہے

اف وہ کتنے امیر ہوتے ہیں

چھوڑا نہیں خودی کو دوڑے خدا کے پیچھے

آساں کو چھوڑ بندے مشکل کو ڈھونڈتے ہیں

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو

جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو

بعض اوقات کسی اور کے ملنے سے عدمؔ

اپنی ہستی سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے

یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا

مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس

میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو

اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

لوگ کہتے ہیں کہ تم سے ہی محبت ہے مجھے

تم جو کہتے ہو کہ وحشت ہے تو وحشت ہوگی

آنکھ کا اعتبار کیا کرتے

جو بھی دیکھا وہ خواب میں دیکھا

سب کو پہنچا کے ان کی منزل پر

آپ رستے میں رہ گیا ہوں میں

بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی

لیکن کوئی روٹھے تو منایا نہیں جاتا

چھپ چھپ کے جو آتا ہے ابھی میری گلی میں

اک روز مرے ساتھ سر عام چلے گا

زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا

میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی

آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو

اب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا

پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعت

پھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

زندگی زور ہے روانی کا

کیا تھمے گا بہاؤ پانی کا

محشر میں اک سوال کیا تھا کریم نے

مجھ سے وہاں بھی آپ کی تعریف ہو گئی

لذت غم تو بخش دی اس نے

حوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے

یا دوپٹہ نہ لیجئے سر پر

یا دوپٹہ سنبھال کر چلئے

اور تو دل کو نہیں ہے کوئی تکلیف عدمؔ

ہاں ذرا نبض کسی وقت ٹھہر جاتی ہے

گلوں کو کھل کے مرجھانا پڑا ہے

تبسم کی سزا کتنی بڑی ہے