تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

عبد الحمید عدم

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

عبد الحمید عدم

MORE BYعبد الحمید عدم

    تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

    خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا

    پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظر

    یک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا

    فوٹو میں دل کی چوٹ نہ تبدیل ہو سکی

    نقلیں اتار اتار کے عکاس رہ گیا

    وہ جھوٹے موتیوں کی چمک پر پھسل گئی

    میں ہاتھ میں لیے ہوئے الماس رہ گیا

    اک ہم سفر کو کھو کے یہ حالت ہوئی عدمؔ

    جنگل میں جس طرح کوئی بے آس رہ گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 82)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے